ٹنڈو آدم ( رضوان احمد غوری ) کھیلوں کی سرگرمیاں صحت مند معاشرے کے لئے بے حد ضروری ہیں ٹنڈوآدم کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے یہاں کے نوجوانوں میں اسپورٹس سے لگاؤ ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر اور سینیٹر امام الدین شوقین نے منسٹر الیون اور سینیٹر الیون کے مابین فٹبال کے نمائشی میچ کے اختتام پر تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر ایس ایس پی سانگھڑ ذیشان شفیق صدیقی، اسسٹنٹ کمشنر ٹنڈوآدم اعجاز علی جتوئی، چیئرمین میونسپل کمیٹی ٹنڈوآدم مسرور احسن غوری، اے ایس پی شہدادپور محمد اظہر خان مغل، ڈی ایس پی ٹنڈوآدم محمد ایوب بروہی، معروف سماجی شخصیت ذوالفقار روشن، غیاث الدین جونیجو، مشتاق احمد عادل، سٹی اسکول کے ایڈمنسٹریٹر مرزا اشفاق بیگ سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں. انہوں نے کہا کہ یہ بڑی خوش آئین بات ہے کہ ٹنڈوآدم میں تمام کھیلوں کے ملکی و بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ اس شعبے میں حکومتی توجہ کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ٹنڈوآدم کے اس منی اسٹیڈیم کو مزید بہتر بنائیں گے اور یہاں کے کھلاڑیوں کی سرکاری سطح پر سرپرستی اور معاونت کی جائیگی اور ٹنڈوآدم میں اسپورٹس ویک کا انعقاد کیا جائے۔ اسپورٹس منسٹری ڈیڑھ ملین روپے خرچ کرے گی انہوں نے کہا کہ اگر اسپتالوں کو ویران کرنا ہے تو ہمیں گراؤنڈ آباد کرنے ہونگے انہوں نےاس میچ کے انعقاد کے لئے اسپورٹس کے فوکل پرسن رحیم راجپوت اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو بےحد سراہا. اس موقع پر ملک ذوالفقار روشن نے صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر کو سونے کا تاج پہنایا. سینیٹر امام الدین شوقین نے ونر ٹیم کو 15 ہزار، رنر ٹیم کو 10 ہزار روپے، جبکہ تین ریفریز اور کمپیئر لطیف چارلی کو پانچ پانچ ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا جبکہ مہمانوں کو سندھ کا روایتی تحفہ سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کیا گیا. اس موقع پر منی اسٹیڈیم میں سینکڑوں تماشائی موجود تھے کرکٹ کھلاڑیوں اور شائقین نے صوبائی وزیر سے ٹنڈوآدم میں کرکٹ گراؤنڈ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ٹنڈوآدم سندھ کا پانچواں بڑا شہر ہے جو ستر سال گذر جانے کے بعد بھی کرکٹ کے گراؤنڈ سے محروم ہے۔
![]()