پشاور (رپورٹ: جنید وزیر) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے خیبرپختونخوا میں سرکاری محکموں کے خلاف کرپشن کے الزامات کی بناء پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ کرپشن کے حوالے سے نادرا سرفہرست ہے جبکہ دوسرے نمبر پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)، تیسرے نمبر پر سوئی گیس، چوتھے نمبر پر محکمہ ڈاک اور چوتھے نمبر ایف آئی اے کا اپنا ادارہ ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اس وقت ایف آئی اے اینٹی کرپشن میں مختلف سرکاری محکموں کے خلاف کرپشن کے 59 کیسزکی تحقیقات جاری ہے، سرکاری محکموں کے خلاف مجموعی طور پر 13 مقدمات درج ہیں، ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ نادرا کرپشن کے لحاظ سے پہلے نمبر پر براجمان ہے جس کے 10 سے زائد اہلکاروں پرغیر قانونی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام ہے جنہوں نے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کرکے لاکھوں روپے بٹورے، زرائع نے بتایا کہ نادار اہلکاروں کے خلاف 4 مقدمات درج ہے اور 7 انکوائریاں جاری ہیں، اس کے علاوہ دوسرے کرپٹ محکمے کا اعزاز پیسکو کو حاصل ہے جس کے اہلکاروں پر 50 لاکھ روپے سے زائد کا سامان چوری کرنے کا الزام ہے، پیسکو اہلکاروں پر 2 مقدمات درج اور 5 کیسز کی تحقیقات جاری ہے، اسی طرح محکمہ سوئی گیس کے اہلکاروں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے جس کے اہلکاروں نے گیس چوری میں مدد فراہم کی اور رشوت لی جن کے خلاف ایک مقدمہ درج اور 3 کی تحقیقات جاری ہے، ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ ڈاک کے 7 اہلکاروں نے پنشن فنڈ میں 7 کروڑ سے زائد کی خرد برد کی جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایف آئی اے کی جانب سے اپنے محکمے کے خلاف بھی کرپشن کے 3 کیسز کی انکوائری جاری ہے۔
![]()