پشاور (رپورٹ: جنیدوزیر) رواں سال خیبرپختونوا میں چھ خواجہ سرا قتل، آٹھ گینگ ریپ ، پولیس تشدد کے متعدد واقعات اور تاوان کی غرض سے خواجہ سراؤوں کے اغوا کے کم از کم چار واقعات ہوئے۔ ڈیٹا کے مطابق بنوں میں نامعلوم افراد نے خواجہ سراؤوں کے دو گھروں کو آگ لگادی۔ خواجہ سراؤوں پر کم از کم تیرہ حملے ہوئے۔ انھیں تیرہ عدد چوریوں اور بھتہ خوری کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ مانسہرہ میں ایک خواجہ سرا کو شادی کی تقریب میں فائرنگ کرکے موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح انکے اغواء کے چار واقعات پیش آئے۔ جبکہ گینگ ریپ کے آٹھ واقعات بھی پیش آئے جس میں چند واقعات میں گینگ ریپ کرنے کی فلم بھی بنائی گئی اور اسکو بعد میں وٹس ایپ کے ذریعے پھیلایا بھی گیا۔ پچھلے تین سالوں میں صوبے میں 26 خواجہ سرا قتل ہوئے ہیں۔ خواجہ سرا نازوں کو اسکے دوست نے اغواء کے بعد تشدد کرکے قتل کردیا اور پھر لاش کو ٹکڑے کردیا۔ واضح رہے کہ اغواء اور ریپ و دھمکیوں کے متعدد واقعات میں پولیس کی طرف سے ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوتی، اس لئے ان واقعات کی اصل تعداد جاننا مشکل ہے۔
![]()