ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) والدین کے تشدد اور ظلم وستم سے تنگ آکر پسند کی شادی کرنے والی شازیہ امبر دختر اللہ وسایا نے میڈیا کے سامنے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ پسند کی شادی کرنے پر میرے والدین انتقامی کاروائیوں پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے میری اغوائیگی کی جھوٹ پر مبنی ایف آئی آر تھانہ کینٹ ڈیرہ میں درج کرائی ہے جبکہ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے والدین کے تشدد اور ظلم سے تنگ آکر اپنی مرضی اور پسند سے محمد اسماعیل صدیق سکنہ بلال آباد مریالی کے ساتھ شادی کرلی ہے اور اس کے ساتھ خوش و خرم ہوں۔ اس نے بتایا کہ میر ی ساس سسر کئی بار میرا رشتہ لینے کے لئے ہمارے گھر آئے لیکن میرے والدین نے انہیں ہر بار انکار کردیا۔ میرے والدین نے مجھے گھر کے اندر کمرے میں بند کردیا اور تشدد کرکے میرے اوپر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ والدین کے انکار اور ظلم سے تنگ آکر میں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور محمد اسماعیل کے ساتھ اپنی مرضی اور پسند سے کورٹ میرج کرلی۔ کورٹ میرج سے قبل میں نے بارہا دفعہ اپنے والدین کو کہا کہ ہماری شادی کردیں یہاں تک کہ میں نے قرآن پاک اُٹھاکر اپنے باپ کو اس کے واسطے دیئے لیکن میرا باپ پھر بھی نہ مانا۔ میرے سسرال والوں کو خود بلالیتا اور پھر انہیں بے عزت کرکے گھر سے باہر نکال دیتا کہ ہم یہ رشتہ نہیں کرتے۔ پھر میرے باپ نے میرے سسرال والوں سے کہا کہ میں یہ رشتہ کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن اس کے بدلے میں اپنی بیٹی جس کی عمر صرف چودہ سال ہے ہمیں دے دیں میں خود اس کے ساتھ شادی کروں گا۔ میرے سسرال والے اس پر بھی تیار ہوگئے لیکن میرا باپ پھر بھی نہ مانا اور رشتہ دینے سے انکار کردیا اور میرے اوپر تشدد اور ظلم کرتے ہوئے گھر کے اندر بند کردیا جس سے تنگ آکر میں نے اپنا گھربار چھوڑ دیا اور محمد اسماعیل کے ساتھ کورٹ میرج کرلی۔ دو روز بعد میرے والدین نے میرے سسر دیور اور دیگر گھروالوں کے خلاف تھانہ کینٹ ڈیرہ میں میری اغوائیگی کی ایف آئی آر درج کرائی اور پھر ایک رات میرا باپ، بھائی اور کزن اہل خانہ کی غیر موجود گی میں میرے سسرال میں داخل ہوئے اور مکان میں موجود لاکھوں روپے نقدی، پندرہ تولہ طلائی زیورات اور دیگر قیمتی سامان اٹھا کر لے گئے اور مکان کو آگ لگادی جس سے وہ مکمل جل کر تباہ ہوگیا۔ میرا دیور اور سسر تھانہ رپورٹ درج کرانے گئے تو انہیں میرے اغوائیگی کے مقدمہ میں گرفتار کرکے پولیس نے حوالات میں بند کردیا جوکہ بعد ازاں عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے جبکہ مقدمہ میں نامزد دیگر افراد نے عبوری ضمانت کرائی۔ تاہم دو ماہ گزرنے کے باوجود میرے سسرال میں مکان کو آگ سے جلاکر نقصان پہنچانے کی پولیس نے آج تک کوئی ایف آر درج نہیں کی جبکہ میرے والدین کی جانب سے مجھے، میرے شوہر، دیوار اور دیگر سسرال والوں کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ہماری جانوں کو شدید خطرہ ہے لیکن ہمیں پولیس کی جانب سے کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔ اس نے مطالبہ کیا کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی داد رسی کی جائے۔
![]()