جامشورو (رپورٹ سبحان بلوچ) تعلیم و تحقیق کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے، نوجوانوں کا تحقیق کی طرف بڑھتا ہوا رجحان خوش آئیند بات ہے۔ لیپ ٹاپ کی مدد سے تحقیق کے عمل کو آسانی اور مزید بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ نوجوان اسکالرز کو جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت نے وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت جامعہ سندھ کے مختلف شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ایل ایل ایم کے 150 اسکالرز میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت میں شریک مملکتی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید ایاز شاہ شیرازی کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ جامعہ سندھ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے ملک کی اہم و منفرد یونیورسٹی ہے، جہاں معیاری تعلیم کے ساتھ تحقیق کے بہترین مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر برفت نے لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے اسکالرز کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ لیپ ٹاپ کی مدد سے انہیں تحقیقی کام کو مزید بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر مملکتی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید ایاز شاہ شیرازی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہی ملک کے روشن ستارے ہیں، وہی ہم سب کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی وہاں کے ذہین طبقے کی مرہون منت ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان اپنے ذہین نوجوانوں کی سہولت اور فائدے کے لیے اہم اقدامات لے رہی ہے، جس میں وزیراعظم کی لیپ ٹاپ اسکیم بھی شامل ہے۔ ایاز شاہ شیرازی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے نوجوان طلباءکے لیے لاکھوں اسکالرشپ کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ 3 لاکھ طلباءو طالبات کو لیپ ٹاپ دیئے گئے ہیں، جن میں جامعہ سندھ کے طلباءکی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ مزید 2 لاکھ لیپ ٹاپ رواں برس میں دیئے جائیں گے۔ اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کراچی ڈاکٹر جاوید علی میمن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایچ ای سی کے مختلف تعلیمی و تحقیقی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ تقریب میں فوکل پرسن سندھ یونیورسٹی ٹھٹھہ کیمپس پروفیسر ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی، جامعہ سندھ کے فوکل پرسن برائے وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم پروفیسر ڈاکٹر وزیر علی بلوچ، ٹیکنیکل مانیٹرنگ آفیسر برائے وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم، ایچ ای سی اسلام آباد منظور علی و دیگر موجود تھے
