ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ریسکیو 1122 کے ملازمین کی تعلیمی اسناد کی چھان بین شروع کردی گئی ہے۔ تعلیمی اسناد کی چھان بین کے بعد بیشتر ملازمین کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔ ان ملازمین کو دو مہنیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی تاحال نہیں ہوئی ہے۔ پانچ سو سے زائد ملازمین کی تنخواہیں نومبر اور اکتوبر سے تاحال ریلیز نہیں کی گئی ہے۔ اے جی آفس ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سمیت صوبے بھر میں بھرتی ہونے والے ریسکیو 1122 کے ملازمین تعلیمی اسناد کی چھان بین کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے یہ چھان بین گزشتہ مہینے سے جاری ہے۔ اس سے قبل ڈبلیو ایس ایس پی پروجیکٹ میں کام کرنے والے سینکٹروں ملازمین کو کنٹریکٹ سے ریگولر کردیا گیا تھا جبکہ ساڑھے تین سو میڈیکل ٹیکنیشن کو اگلے گریڈوں میں بھی ترقیاں دی گئی تھیں تاہم جن ملازمین کے تعلیمی اسناد کی چھان بین کی جارہی ہے ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں جبکہ باقی ملازمین کی تنخواہیں ریلیز کی گئی ہیں۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیض کے مطابق ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی جاچکی ہے اور کسی ملازم کی تنخوا ہ بند نہیں ہے۔
![]()