ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) عدالتی احکامات کے باوجود سرکلر روڈز پر بڑی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کی خلاف ورزی جاری، گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول، شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا، پولیس اعلی حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹریفک کے بڑھتے دباﺅ کے باعث ایک سال قبل پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سرکلر روڈ پر دن کے اوقات میں بڑی گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ عدالتی حکامات پر صرف چند ماہ تک ہی عمل درآمد کیا گیا اور اس کے بعد بڑی گاڑیوں کو سرکلر روڈ پر داخل ہونے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی جس کے نتیجے میں سرکلر روڈ پر شدید ٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے۔ پولیس کی غفلت اور نااہلی کے سبب عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کھلے عام جاری ہے۔ سرکلر روڈز پر شدید رش کے باعث دفتری اور سکول کالجز کے اوقات میں گھنٹوں ٹریفک جام ہونے شہروں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔شہریوں نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے صرف چند ماہ ہی عدالتی احکامات پر عمل کیا اور بڑی گاڑیوں کو بائی پاس روڈ استعمال کرنے کا پابند بنایا لیکن پھر روایتی کاہلی اور نااہلی کے سبب شہر میں دن کے اوقات کے دوران بڑی گاڑیوں کو داخل ہونے کے چھوٹ دے دی گئی ہے جس کی وجہ سے شہر میں شدید ٹریفک کے مسائل پید ا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت عالیہ کے احکامات پر فوری عمل کرتے ہوئے شہرمیں بڑی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کو یقینی بنایا جائے۔
![]()