ڈیرہ اسماعیل خان ( رپورٹ: گوہر غنچہ) ایڈیشنل سیشن جج ڈیرہ عثمان ولی خان نے چھ سالہ بچی ماہ نور کو ریپ کے بعد قتل کے جرم میں محمد بلال کو3 بار سزائے موت اور 09 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنادیا۔ مجرم محمد بلال کو عدالت نے بچی کے اغواء، ریپ اورقتل کی دفعات کے تحت سنائی۔ عدالت نے تعزیرات پاکستان کے دفعہ 302 میں اسے سزائے موت اور سات لاکھ روپے عوضانہ، زیر دفعہ 364 اے ت پ میں سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ جبکہ جرم زیر دفعہ 376 ت پ میں بھی سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ ان میں سات لاکھ عوضانہ بھی عائد کیا گیا جو مجرم متاثرہ خاندان کو ادا کرے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق مجرم کے پاس سزا کے خلاف فیصلے کا اختیار ہے اور وہ 15 روز کے اندر اعلیٰ عدالت میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے جس کے لیے امکان ہے کہ مجرم جیل حکام سے رجوع کرے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معصوم بچی ماہ نور کے والد نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اسے اپنے لیے انتہائی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مجرم کو ملنے والی سزا سے مطمئن اور انصاف کے حصول میں ذرائع ابلاغ کے مثبت کردار پر بہت شکر گزار ہیں۔ واضح رہے کہ عدالت نے حتمی بحث مکمل ہونے کے بعد ماہ نور قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور اس فیصلے کو سنانے کے لیے 01 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ تھانہ ٹاﺅن کی حدود ظفرآباد کالونی ڈیرہ میں 26 جنوری 2017 کو چھ سالہ ماہ نور شادی کی تقریب کے دوران اچانک لاپتہ ہوگئی جس کی تلاش کی گئی لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اس دوران بچی کا چچا زاد بھائی مجرم محمد بلال جو کہ بچی کی بڑی بہن سے شادی کا خواہشمند تھا اور انکار پر اہل خانہ کو دھمکیاں دے چکا تھا بھی غائب پایا گیا۔ شک ہونے پر پولیس نے دوران تفتیش اس کے چچا ذاد بھائی مجرم محمد بلال کو شامل تفتیش کیا۔ دوران تفتیش اس نے بچی کو ریپ کے بعد بچی کی شلوار کی الاسٹک سے اس کا گلہ گھونٹ کر قتل کرنے کا انکشاف کیا۔ مجرم کی نشاندہی پر بچی کی لاش قریبی اراضی فصل گنا میں پلاسٹک کے گٹو سے برآمد کی گئی۔ بچی کا والد غلام فرید کراچی گیا ہوا تھا جوکہ واقعہ اطلاع پر ڈیرہ پہنچا۔ بچی کے ماموں غلام عباس کی جانب سے تھانہ ٹاﺅن میں ماہ نور کو اغواء کرکے ریپ کرنے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ماہ نور قتل کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی مجرم محمد بلال کے انکشافات پر اسے مزید دو بچیوں شمائلہ اور ریحانہ بی بی کے ریپ اور قتل کیسز میں بھی نامزد کر دیا جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر تجویز ہیں۔ مجرم محمد بلال کے وکیل نے اپنے موکل کا مقدمہ لڑنے سے معذرت کرتے ہوئے اس کیس سے دستبردار ہوگئے تھے۔
![]()