کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی اُردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسندی کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے ادباء اور شعراء بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ہمیں اپنی نوجوان نسل کو کتابوں کے قریب لانا ہوگا، ہر ضلع میں نئی لائبریریاں قائم کی جائیں گی، ادب اور اُردو زبان کے فروغ کے لیے سندھ حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی، شعراء اور ادباء کی کہی ہوئی باتیں دیرپا اثر رکھتی ہیں، لہٰذا انہیں معاشرے میں موجود بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے کردار ادا کریں، اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت و تعلیم سید سردار علی شاہ، مشیر وزیراعلیٰ سندھ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بھی خطاب کیا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عالمی اُردو کانفرنس کا انعقاد 2008 میں کیا گیا تھا اور اسی سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بھی صوبے سندھ میں موجود ہے، ادبی محافل کے انعقاد اور شعر و ادب کے فروغ کے لیے ہم ان تمام اداروں کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں جو انتہا پسندی کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے ایسی محافل کا انعقاد کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ سے ہم سب کا دل دہل کر رہ گیا ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ اس طرح کے واقعات سے ہم اپنے بچوں کے ذہنو ں پر کیا اثر چھوڑ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر جنگ لڑنا ہوگی، ہم میں سے ہر کوئی انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف جاری جنگ میں اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کرے، انہوں نے کہا کہ بالخصوص ادیب و دانشور حالات کو سازگار بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رات کے اوقات میں ٹی وی ٹاک شوز میں ایسے پروگراموں کو بھی شامل کرنا چاہیے جو شعر و ادب کے فروغ کا باعث ہوں اور جنہیں دیکھ کر نوجوان نسل میں کتابوں سے محبت اور رغبت پیدا ہو، سوشل میڈیا پر ہمیں ایسے مواد کو پھیلانا چاہیے جس میں نرم اور گداز انداز میں اچھی اور خوبصورت باتیں موجودہ اور آنے والی نسلوں تک پہنچیں، انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کے آجانے سے یقینا میڈیا طاقت ور ہوا ہے لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں بھی پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ چھَپی ہوئی اور پڑھی ہوئی بات لوگوں کے اذہان میں رہ جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ ادبی فورمز پر پریشر گروپ بننا چاہئیں تاکہ اچھی اور سچائی پر باتیں عام لوگوں تک بھی پہنچ سکیں، قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ عالمی اُردو کانفرنس اُردو زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا میلہ ہے جس کا سہرا آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے، برصغیر میں بولی جانے والی تمام زبانوں نے مل کر اُردو زبان کو جنم دیا ہے، لہٰذا اُردو کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ جن زبانوں نے اُردو کو جوڑا ہے آج اُردو بھی ان زبانوں سے جڑ جائے، ہم جس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں آج اس کے بنیادی عناصر کے سامنے ہمیں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، انتہا پسندی کے طوفان کو روکنے کے لیے ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جن سے انتہا پسند واقعات کا تدارک ہو اور لوگوں میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ پیدا ہو، انتہا پسندوں سے ڈائیلاگ کرنے کے بجائے ادیب و شعراء سے ڈائیلاگ کیے جائیں اگر پنجاب کو سیالکوٹ جیسے واقعات سے بچنا ہے تو بابا بلھے شاہ، میاں محمد بخش، وارث شاہ، رحمان بابا و دیگر کی شاعری کی طرف لوٹنا پڑے گا، انہوں مزید کہا کہ صوبہ سندھ کا معاشرہ اگر آج امن پر قائم ہے تو اس میں سندھ کی ثقافت، شاعری اور کلچر کا بڑا عمل دخل ہے، ہم آج اگر اپنی ثقافت کو محفوظ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں تو اس کے پیچھے سچل سائیں اور شاہ لطیف کی سوچ ہے جنہوں نے عملی طور پر انتہا پسندی کے خلاف امن و آتشی کی بات کی ہے، انہوں نے کہا کہ اُردو زبان کو ایک ماں کا رول ادا کرنا ہوگا اور سب زبانوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ زبان اور تہذیب کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم حصہ ہوتی ہے ہم نے کچھ اور بننے کی کوشش میں اپنی زبان کو بھی بھلا دیا ہے۔ عالمی اُردو کانفرنس ہمارے خوب صورت ماضی کو دوبارہ سے زندہ کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی اور ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو زبان کی اہمیت سے روشناس کرائے گی۔ بعض لوگوں نے انگریزی سیکھنے کی کوشش میں کچھ اس طرح کے اقدامات کیے کہ نہ ہی وہ انگریزی سیکھ سکے اور نہ ہی انہیں صحیح طریقے سے اُردو بولنا آئی۔ صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے کہا کہ 14سال پہلے جب عالمی اُردو کانفرنس کا پہلی بار انعقاد کیا گیا تھا تو اس وقت حالات بھی ساز گار نہیں تھے اور کچھ ایسے طبقات بھی موجود تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح کی کانفرنسز کا انعقاد ہو بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہمارا معاشرہ تہذیب و تمدن سے عاری ہو جائے، لیکن ہم نے ان کے عزائم ناکام بنا دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسی طرح ہیں جس طرح ایک سپاہی سرحد پر کھڑا رہتا ہے ہم بغیر تنخواہ اور پنشن کے تہذیب و ثقافت کے سپاہی ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کے ادبی حلقوں کے لیے عالمی اُردو کانفرنس کسی عید سے کم نہیں ہوتی، پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ صوبائی حکومت نے ثقافت اور تہذیب کو پروان چڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے اپنے ہر طرزِ عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ اس صوبے میں امن و آتشی کے فروغ کے لیے اپنے کلچر اور تہذیب کو فروغ دینے میں سب سے آگے ہیں، انہوں نے کہا کہ آج تک سندھ حکومت نے بھرپور مالی امدادی کے باوجود آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کو کبھی اس بات پر پابند نہیں کیا کہ یہاں کون سے پروگرام ہونے چاہئیں یا کون سے نہیں، انہوں نے کہا کہ عالمی اُردو کانفرنس کے انعقاد کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس فورم سے ایسے سوال اٹھائے جائیں کہ جن سے ہم سب کو یہ معلوم ہو کہ ہماری تہذیب اور سماج کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جو انتہا پسند، تہذیب اور ثقافت کے دشمن ہیں اور جو اس ملک کے امن کو تار تار کرنا چاہتے ہیں ہم ان کے خلاف اپنے قلم اور اپنی مثبت سوچ سے مقابلہ کریں، ادب اور ثقافت سماج کے آئینہ دار ہوتے ہیں اسی لیے ہم مارچ 2022 میں قومی ثقافتی کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ کیونکہ ہم اس مٹی کے حامی ہیں اور ہم اس کی حفاظت کا فریضہ بھی نبھائیں گے۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو تیرہویں عالمی اُردو کانفرنس کی کتاب اور پھول بھی پیش کیے۔