کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام کی ذیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ہونیوالے ایک اجلاس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت بائیو میٹرک تصدیقی نظام و دیگر ماڈرن تیکنیکس کی اہمیت اور افادیت پر مشتمل جملہ آگاہی و معلومات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مذید ضروری احکامات دیئے گئے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آئی ٹی سلطان علی خواجہ نے اجلاس کو سینٹرل پولیس آفس سے باقاعدہ نادرا لنک کے ذریعہ آغاز اور اسکی اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ وہ پہلا صوبہ ہے جہاں پولیس کو یہ سروس اور سہولت دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا تمام تر کریڈٹ آئی جی سندھ کو جاتا ہے کہ جنکی سنجیدہ کاوشوں اور اقدامات کی بدولت گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں سندھ پولیس اور نادرا کے درمیان اس ضمن میں باقاعدہ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بایومیٹرک ویریفیکیشن سروس ایک ایسا جدید سافٹ ویئر ہے کہ جسکی مدد سے کسی کے بھی انفرادی ریکارڈ کے توثیقی اقدامات بروقت اور آسان ہوجاتے ہیں اور یہ سروس سندھ پولیس کو نادرا کے تعاون اور باہم منسلک ہونے سے میسر آگئی ہے اور جسکا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے جبکہ فیلڈ افسران کی باقاعدہ ٹریننگ کا عمل آنیوالے پیر کے دن سے شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سافٹ ویئر کی مدد سے ایسے کریمنلز جوکہ مختلف نوعیت کے جرائم بشمول قتل ڈکیتی رہزنی اغواء برائے تاوان و دہشت گردی میں ملوث یا مرتکب پائے جاتے ہوں اورجو بعد از گرفتاری اپنی شناخت مخفی رکھنے یا غلط بتاتے ہیں کا مکمل ریکارڈ صرف اور صرف ون ٹچ پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مذید برآں اس سروس کی بدولت نامعلوم ڈیڈ باڈیز کی شناخت کا عمل بھی آسان ہوجائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سروس سی پی او میں دستیاب ہے اور دیگر تمام ضلعی ایس ایس پیز کے دفاتر کو پام ڈیوائسز فراہم کردی گئیں ہیں جو سی پی او سے باقاعدہ آن لائن ہیں۔ اب کسی کی بھی شناخت کے حوالے سے صرف اور صرف ایسے شخص کے دائیں اور بائیں ہاتھ کے فنگرز، پام ڈیوائس پر رکھتے ہی درست اور مکمل ریکارڈ سامنے آجائیگا۔ جس میں نام ولدیت، شناختی کارڈ نمبر و دیگر سرفہرست ہیں۔ انہوں نے مذید بتایا کہ اس سروس سے آپریشنل اور انویسٹی گیشن پولیس کو جرائم کے خلاف جاری جنگ اور تفتیش وتحقیق کے جملہ پہلوؤں میں خاطرخواہ کامیابیاں میسر آسکیں گی۔ آئی جی سندھ نے اس سہولت کی فراہمی پر نادارا حکام کا شکریہ ادا کیا اور ڈی آئی جی آئی ٹی اور ڈائریکٹر آئی ٹی کی جانب سے اس سروس کو حقیقی معنوں میں قابل عمل بنانے پر سراہا اور شاباش دی۔
![]()