Home / اہم خبریں / نئی ڈیپ سی پالیسی کے نفاذ سے اربوں روپے کی ایکسپورٹ اور لاکھوں ماہی گیروں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا- چیئرمین ایف سی ایس عبدالبر

نئی ڈیپ سی پالیسی کے نفاذ سے اربوں روپے کی ایکسپورٹ اور لاکھوں ماہی گیروں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا- چیئرمین ایف سی ایس عبدالبر

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) نئی ڈیپ سی پالیسی کے نفاذ اور ماہی گیروں و لانچوں کی پکڑ دھکڑ کے خلاف ماہی گیروں نے لانچیں احتجاجاً کراچی فش ہاربر پرکھڑی کردیں، اربوں روپے کی ایکسپورٹ اور لاکھوں ماہی گیروں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا، ماہی گیروں کے 12 ناٹیکل میل سے آگے سمندر میں جانے پر پابندی لگا دی گئی، مچھلی کے کاروبار سے منسلک لاکھوں لوگ پریشان، حکومت سے نئی ڈیپ سی پالیسی فی الفور واپس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نئی ڈیپ سی پالیسی 2018 کے نفاذ کے بعد سمندری حدود کی حفاظت پر مامور اداروں کی جانب سے ماہی گیروں پر 12 ناٹیکل میل سے آگے سمندر میں جانے اور مچھلیاں پکڑنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ سمندری حدود کی خلاف ورزی کا کہہ کر کشتیوں اور ماہی گیروں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی ہے۔جس کی وجہ سے ماہی گیروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اور اس ناگفتہ بے صورت حال کے باعث ماہی گیروں نے سمندر میں مچھلیوں کے شکار پر جانے سے احتجاجاً انکار کر دیا ہے اور کراچی فش ہاربر پر اپنی لانچیں کھڑی کر دی ہیں۔ بڑی تعداد میں لانچیں کھڑی ہونے کے باعث کراچی فش ہاربر کا چینل تقریبا بلاک ہو گیا ہے۔ ماہی گیروں اور سی فوڈ سے تعلق رکھنے والے فیکٹری مالکان و ملازمین کے احتجاج کے باعث کراچی فش ہاربر کی صورت حال بہت گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی عبدالبر کا کہنا ہے کہ نئی ڈیپ سی پالیسی کے نفاذ سے ماہی گیروں کے لیے بڑی مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں اور ماہی گیروں پر نئی پابندیوں کی وجہ سے کراچی فش ہاربر پر سی فوڈ کی آمد نہ ہونے کے برابر ہو گئی۔ اس نئی سی فوڈ پالیسی کے باعث ماہی گیروں اور سی فوڈ انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے وہیں فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی بھی مالی بحران کا شکار ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ چیئرمین فشر مینز کوآپریٹیو سو سائٹی عبدالبر نے وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی ڈیپ سی پالیسی کو فی الفور واپس لے کر ماہی گیروں اور سی فوڈ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہی ماہی گیروں کی وجہ سے اربوں روپے کا زر مبادلہ وطن عزیز کو حاصل ہوتا ہے۔ نئی ڈیپ سی پالیسی کے نفاذ کے بعد سے سی فوڈ کی ایکسپورٹ ختم ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو اربوں روپے کے زرمبادلہ کا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔چیئرمین ایف سی ایس عبدالبر نے کہا کہ وفاقی حکومت مذکورہ نئی ڈیپ سی پالیسی کو فی الفور ختم کرے اور نئی ڈیپ سی پالیسی بناتے وقت سی فوڈ انڈسٹری سے منسلک تمام اسٹک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیر خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔ ایسی کوئی پالیسی نہیں بننی چاہیے جس سے ماہی گیروں اور وطن عزیز کو نقصان ہو۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے