کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ روز پیش آنے والے ڈمپر حادثے میں بھائی بہن کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ڈمپر مالکان سے مذاکرات تو کرتی ہے لیکن جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات تک نہیں کرتی۔
علی خورشیدی نے کہا کہ ڈمپر والے دھمکیاں دیتے ہیں اور وزراء ان سے میٹنگ کرتے ہیں، مگر متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور معاوضہ دینے میں حکومت تاخیر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اس معاملے کو لسانی نہیں بلکہ انسانی المیہ سمجھتی ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے سیاست نہیں بلکہ سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سندھ حکومت نے اب تک ڈمپر حادثات میں جاں بحق ہونے والے 200 سے زائد افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت نہیں کی۔ ’’ہم نے اس مسئلے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کی، اگر سیاست کرنی ہوتی تو حکومت سے تعاون نہ کرتے‘‘، انہوں نے کہا۔
علی خورشیدی نے مطالبہ کیا کہ ڈمپر مالکان کو کسی قسم کا معاوضہ دینے سے پہلے ان متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے جن کے پیارے کچلے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرانگیزی کی نہ ایم کیو ایم نے کبھی حمایت کی ہے اور نہ کرے گی، یہاں مختلف اللسان لوگ بستے ہیں، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سنگین مسئلے پر اسمبلی اور عوام کو جواب دے۔