کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کی سربراہی میں سندھ اسمبلی میں قائم خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اساتذہ کی بھرتیوں ویٹنگ لسٹ اور تعلیمی پالیسی سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ، قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی، اراکین سندھ اسمبلی جمیل احمد سومرو، تنزیلہ ام حبیبہ، محمد شبیر قریشی، محمد راشد خان اور محکمہ تعلیم و قانون سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے پی ایس ٹی، جے ایس ٹی، جونیئر سائنس ٹیچرز اور ارلی چائلڈ ٹیچرز (ECT) کی بھرتیوں، ویٹنگ لسٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں سے متعلق کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ عدالت کے فیصلے کا اطلاق صرف درخواست گزاروں تک محدود ہے یا تمام ویٹنگ امیدوار اس سے مستفید ہوں گے اس مقصد کے لیے محکمہ قانون سے جامع قانونی رائے طلب کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی نے اس امر پر اتفاق کیا کہ تمام اہل امیدواروں کو میرٹ اور قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ اجلاس میں ویٹنگ لسٹ کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا جبکہ ایم پی اے جمیل احمد سومرو نے سفارش کی کہ قانونی تقاضے پورے ہونے اور خالی آسامیوں کی دستیابی کی صورت میں ویٹنگ لسٹ کے امیدواروں کو بھی ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔
خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پی ایس ٹی اور جے ایس ٹی ویٹنگ امیدواروں کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں محکمہ قانون سے تفصیلی لیگل اوپینین حاصل کی جائے گی اجلاس میں یہ بھی منظور کیا گیا کہ آئی بی اے ٹیسٹ میں مقررہ 55 نمبر حاصل کرنے والے تمام جونیئر سائنس ٹیچرز کو بھرتی کیا جائے گا، جبکہ ارلی چائلڈ ٹیچرز (ECT) کے مقررہ معیار پر کامیاب امیدواروں کو فوری تقرری آرڈرز جاری کیے جائیں گے۔ مزید برآں باقی ماندہ خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل آئندہ تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے اعلان کیا کہ خصوصی کمیٹی کا آئندہ اجلاس 5 اگست 2026 کو منعقد ہوگا جس میں قانونی رائے اور بھرتیوں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔