تازہ ترین
Home / اہم خبریں / سندھ کے پسماندہ علاقوں کے سرکاری اسکول میں مفت “اسکول کھانا پروگرام” کا آغاز، وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے پروگرام کا افتتاح کیا اسکول کھانا پروگرام اللہ والے ٹرسٹ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔

سندھ کے پسماندہ علاقوں کے سرکاری اسکول میں مفت “اسکول کھانا پروگرام” کا آغاز، وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے پروگرام کا افتتاح کیا اسکول کھانا پروگرام اللہ والے ٹرسٹ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ کے پسماندہ علاقوں کے سرکاری اسکول میں مفت کھانا فراہم کرنے کا آغاز کردیا گیا، وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے “اللہ والے ٹرسٹ” کے تعاون سے اسکولوں میں مفت “اسکول کھانا پروگرام” کا افتتاح کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے بچوں غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور اسکول سے باہر بچوں کو اسکول واپس لانے میں مدد ملے گی۔ کراچی کے ضلع ملیر کے مراد میمن گوٹھ کے گورنمینٹ بوائز پرائمری اسکول سے شروع ہونے والے پروگرام کے موقع پر اللہ والے ٹرسٹ کے چیئرپرسن شاہد لون، ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر فوزیہ خان، ڈائریکٹر اسکولز کراچی مرزا ارشد بیگ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ غذائی کمی کی وجہ سے بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے، اس وقت پسماندہ علاقوں کے بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ متوازن خوراک بچوں کی جسمانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ایسا سفر شروع کرنے جا رہے ہیں جس کی مدد سے ہم بچوں کی غذائی ضرورت کو پورا کرتے ہوۓ ان کو بیماریوں کے ساتھ لڑنے کے قابل بنانے میں مدد ملے گی۔” صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ دنیا بھر میں چلنے والے “اسکول میل پروگرامز” کو لرننگ آؤٹ کمز کو بہتر نتائج حاصل کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، سید سردار علی شاہ نے کہا کہ غربت کے لحاظ سے پاکستان کا شمار دنیا کے 10 غریب ممالک کی فہرست میں شامل ہوتا ہے، پاکستان میں 42 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، ایسے میں والدین اپنے بچوں متوازن خوراک نہیں دے پاتے جس کی وجہ سے بچوں کی نشرنماء متاثر ہوتی ہے، “غذائیت سے بھرپور کھانے بچوں کی نشوونما، دماغی ترقی، اور قوتِ مدافعت میں بہتری لاتے ہیں۔” صوبائی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ جب بچوں کو اسکول میں کھانا ملتا ہے تو ان کی اسکول میں حاضری بہتر ہوتی ہے، اور وہ تعلیم میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، غریب خاندانوں کے لیے یہ ایک مددگار پروگرام ہے، کیونکہ ایک وقت کا کھانا اسکول میں ملنے سے گھر کے اخراجات کو سنبھالنے میں بھی مدد ملے گی، اسکول کھانا پروگرام کی مدد سے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ کے قریب پسماندہ علاقوں کے اسکول کے بچوں کو ضرورت کے تحت کھانا فراہم کی کوشش کی جاۓ گی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اللہ والے ٹرسٹ جیسے ادارے ہمارے اپنے ملک کے ادارے ہیں جو آگے بڑھ کے بہتر کام کر رہے ہیں ہمیں اس طرح اونرشپ کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر اللہ والے ٹرسٹ کے سربراہ شاہد لون نے پروگرام کی ضرورت اور اس کی اہمیت کے حوالے سے آگہی دیتے ہوۓ بتایا کہ آج اس پروگرام کا آغاز ہوچکا ہے، جس کے تحت گورنمینٹ بوائز پرائمری اسکول مراد میمن کے 700 بچوں کو روز ایک وقت کا مفت دیا جاۓ گا، جسے دیگر اسکولوں تک مرحلہ وار بڑھایا جاۓ گا، انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے سینٹرلائیز کچن قائم کیے جائیں گے، جہاں سے ٹمپریچر کو مینٹین کرتے ہوۓ گرم کھانا اسکولوں تک پہنچایا جاۓ گا، اس کے علاوہ بچوں کھانا کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کی سہولت بھی دی جاۓ گی، اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر فوزیہ خان نے کہا کہ اس پروگرام کا مختلف حوالوں سے جائزہ لیا جاۓ گا، پروگرام کی افادیت کو چانچنے کے لیے بچوں اسکولوں میں پروگرام شروع کرنے سے پہلے بچوں کا باڈی ماسک انڈیکس (BMI) کیا جاۓ اور چار مہینوں کے بعد اس کے نتائج بھی دیکھے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اس عمل سے ہمیں بچوں کو نشرنماء کو مانیٹر کرنے ان کی صحت اور دیگر مسائل کو جانچنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے بچوں میں کھانا تقسیم کیا اور اسکول کی بچیوں کو خود اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا کر ان سے اظہار شفقت بھی کیا۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے