کراچی، (اسٹاف رپورٹر) ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) کورنگی انتظامی اور مالیاتی بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور من پسند تعیناتیوں کا گڑھ بنتی جا رہی ہے، جہاں بلدیاتی قوانین اور سروس رولز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تازہ انکشافات کے مطابق قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک گریڈ 16 کے جونیئر افسر کو ڈائریکٹر جیسے حساس عہدے کا چارج دے دیا گیا، جبکہ دو مرتبہ معطل ہونے والے ایک افسر کو بغیر کسی قانونی بحالی (Restoration Order) کے دوبارہ اہم پوسٹنگ سونپ دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایم سی کورنگی میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ، بلدیاتی قوانین اور ای اینڈ ڈی رولز 1973 کو پس پشت ڈال کر انتظامی فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ادارے کے اندر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق گریڈ 16 کے اسسٹنٹ اویس پلیجو کو ڈائریکٹر (پرچیز) کا قائم مقام چارج دیا گیا، حالانکہ اس عہدے کے لیے کم از کم گریڈ 17 ہونا لازمی شرط ہے۔ اس غیر قانونی تعیناتی نے نہ صرف سینیئر افسران میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ شفافیت اور میرٹ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ شاہ عالم نامی افسر، جو 2024 اور 2025 میں سنگین انتظامی وجوہات اور حکم عدولی پر دو مرتبہ معطل ہو چکے ہیں، کو کسی بھی باقاعدہ بحالی کے حکم کے بغیر دوبارہ کلیدی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ 16 دسمبر 2025 کو انہیں ای اینڈ ڈی رولز 1973 کے تحت معطل کیا گیا تھا، تاہم حیران کن طور پر صرف ایک ماہ بعد 19 جنوری 2026 کو انہیں ڈائریکٹر انفارمیشن تعینات کر دیا گیا، جبکہ نہ ان کی بحالی کا کوئی تحریری نوٹیفکیشن سامنے آیا اور نہ ہی انکوائری کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔
بلدیاتی ماہرین کے مطابق ای اینڈ ڈی رولز 1973 کے تحت کسی ایسے افسر کو، جس کے خلاف تادیبی کارروائی یا انکوائری زیر التوا ہو، کلیئرنس کے بغیر نئی تعیناتی دینا صریحاً غیر قانونی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ایم سی کورنگی میں کیے گئے یہ فیصلے انتظامی بدنظمی، ذاتی پسند و ناپسند اور مبینہ ’’بیک ڈور‘‘ اثر و رسوخ کی واضح مثال ہیں۔
عوامی حلقوں اور بلدیاتی ماہرین نے وزیر بلدیات سندھ اور سیکریٹری بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کورنگی میں ہونے والی ان غیر قانونی تعیناتیوں اور اقربا پروری کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ادارے میں میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔