نواب شاہ/کراچی, (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) انڈونیشیا کے قونصل جنرل برائے کراچی، عزت مآب مدزاکر نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ترقی، معیشت اور سماجی استحکام سے جڑا ہوا ایک مشترکہ عالمی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے یہ بات قائدِ عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کوئسٹ) نواب شاہ میں منعقدہ دوسرے بین الاقوامی ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی پائیداری سمپوزیم سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت اور زرعی نقصانات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جبکہ انڈونیشیا بھی سمندری سطح میں اضافے اور غیر معمولی موسمی حالات سے متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے انڈونیشیا کے ماحولیاتی اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ انڈونیشیا 2060 یا اس سے قبل نیٹ زیرو اخراج کے حصول اور 2030 تک کاربن اخراج میں نمایاں کمی کے لیے پُرعزم ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، منصفانہ توانائی منتقلی، مینگرووز کی بحالی اور جنگلات کے تحفظ کو انہوں نے انڈونیشیا کی اہم ترجیحات قرار دیا۔
مدزاکر نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی زراعت، پائیدار انفراسٹرکچر اور تعلیمی و تحقیقی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ممالک کے درمیان باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں قونصل جنرل نے کوئسٹ نواب شاہ اور سمپوزیم کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے علمی و تحقیقی فورمز ماحولیاتی چیلنجز کو عملی اور پائیدار ترقیاتی حکمتِ عملی سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔