تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ٹرین حادثے میں ہلاک شدگان کے خاندانوں سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں، واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں، واقعے کی انکوائری ہونی چاہیے۔ حلیم عادل شیخ

ٹرین حادثے میں ہلاک شدگان کے خاندانوں سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں، واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں، واقعے کی انکوائری ہونی چاہیے۔ حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قائد حزب اختلاف سندھ و پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی کے باہر اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا ان کے ہمراہ اراکین اسمبلی ریاض حیدر، رابستان خان، حاجی نثار آرائین اور دیگر موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا آج افسوسناک ٹرین حادثہ پیش آیا ہے، ہلاک شدگان کے خاندانوں سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں، اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس واقعے کی انکوائری ہونی چاہیے، کوئی تخریب کاری یا غفلت ہے دونوں کو سامنے لایا جائے، اگر ریلوے کی غلطی ہے تو وزیر اعظم سے گزارش کروں گا ایکشن لیا جائے،اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، اس میں کسی کو معاف نہ کیا جائے، این ڈی ایم اے کی ٹیمیں، پاک افواج کے ہیلی کاپٹر، ایمبولینسز موجود ہیں لیکن صوبائی سندھ حکومت کے پاس 1122 جیسا کوئی محکمہ نہیں، کوئی ایمبولینس اور ہسپتال نہیں ہیں جس سے زخمیوں کا بہتر علاج ہوسکے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کل شام اس شہر کو جلتے دیکھا، اسی قسم کے دہشتگردی کے واقعات ہم نے پہلے دیکھے، محترمہ کی شہادت کے وقت جو صورتحال تھی وہی کل دیکھی گئی، کل لوٹ مار کی گئی، گھناؤنی سازش کی گئی، یہ لسانی فساد کرانے کی سازش ہے، جو اسٹیج پر تھے وہ اور تھے جلاؤ گھیراؤ والے کوئی اور تھے، اب دیکھا جائے اس کا فائدہ کس کو ہوا، نااہل ناکام حکومت کو پہلے اس احتجاج کا پتہ تھا، بحریہ ٹاؤن کا اونر آصف زرداری ہے، مقامی سندھی اور گوٹھ متاثر ہوئے ہیں، چاچا فیض محمد گبول والے کئی سال سے احتجاج کر رہے ہیں انہوں نے ایک ڈنڈا بھی نہیں اٹھایا، یہ لوگ پکے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی میں یہاں لائے گئے، بحریہ ٹاؤن میں 60 فیصد اندرون سندھ سے آئے لوگ رہتے ہیں، آصف زرداری کے بہادر بچے راؤ انوار نے قبضے کروائے، ملک ریاض کو کراچی لانے والے زرداری ہیں، اصل ڈاکو اور قبضہ خور سندھ حکومت والے ہیں، پولیس کی ذمہ داری تھی حالات کو کنٹرول کرتی، کس قانون کے تحت انہیں اندر جانے دیا گیا، یہ لوگ اندر جاکر لوٹ مار کرتے رہے، یہ لوگ بدمعاش اور لٹیرے تھے، ہم چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں بحریہ ٹاؤن واقعے پر نیوٹرل جج سے انکوائری کرائی جائے، یہ گھناؤنی سازش ہے اربن رورل لڑائی کرانے کی، سندھی مہاجر فسادات کرانے کی کوشش کی گئی، اس کے پیچھے سندھ حکومت ہے، یہ سازش ہے ان لوگوں کو دوبارہ نکال کر قبضے کرنے کی، سندھ حکومت کل سے مفرور ہے، کل پاکستان نہ کھپے کے نعرے لگائے گئے،ان کے باپ میں طاقت نہیں پاکستان نہ کھپے بولیں، جی ایم سید نے پاکستان کی قرارداد پیش کی، اب تو را کے ایجنٹ بیٹھے ہوئے ہیں، پی پی سندھ کارڈ کھیل رہی ہے، مراد علی شاہ میں شرم ہوتی تو استعفی دیکر گھر جاتے، یہ آگ لگوانے والے پیپلز پارٹی والے ہیں، ایف آئی آر آصف زرداری، مراد علی شاہ پر کٹنی چاہیے، فوٹیجز موجود ہیں لوگ پکڑے جائیں، مقامی لوگوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے، مقدمے میں بے گناہ لوگوں کو ڈالا گیا ہے، وزیراعلیٰ کی کرسی سندھ کارڈ کی مرہون منت ہے، 13 سال میں ساڑھے 16 سو ارب سندھ حکومت نے ترقیاتی بجٹ رکھے جو کرپشن کی نذر ہوگئے۔ وزیر اعظم نے ایک سال میں دو پیکیج 18 اضلاع کو دیے، ایک ہزار ارب سے زائد رقم وفاق نے دی، 13 سال میں پی پی نے ایک بس نہیں چلائی، گرین لائن، فائر برگیڈز، ہم لارہے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے