کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے بھیجے جانے والے کورونا ویکسین کے عطیہ کو خرد برد سے بچانا ضروری ہے۔ امید ہے کہ دوست ملک نے اپنی قیمتی ویکسین کو تمام تر حفاظتی ٹیسٹس سے گذار کر پاکستان کے عوام کے لئے عطیہ کی ہیں تا کہ آئندہ صحت سے متعلق کسی بھی قسم کے گوناگوں خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ویکسین کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہونے سے بچایا جائے۔ تمام ویکسین پر ” برائے فروخت نہیں ہے” کی مہر ثبت کی جائے۔ ویکسین بلا کسی امتیاز کے بیلٹنگ کے ذریعے غریب عوام کو لگائی جائے۔ کورونا ویکسین پر پہلا حق پیرا میڈیکل اسٹاف اور پولیس کے ان سپاہیوں کا بنتا ہے جو لاک ڈاؤن کے دوران فرنٹ لائن پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اس کے بعد تعلیمی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کیلئے کرونا ویکسین پر اساتذہ اور طالب علموں کا حق بنتا ہے۔ امراء اور حکمران طبقہ خود خرید کر ویکسین لگائیں اور ایک صحت مند روایت قائم کریں۔ ویکسین کے شفاف استعمال کے لئے نادرہ کے ڈیٹا بیس سے بیلیٹنگ کی جائے۔ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو کرونا ویکسین لگانے کا کام تفویض کیا جائے۔ وہ پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے ویکسین کے عطیہ پر ہم چین کے شکر گزار ہیں۔ چین کے ساتھ پاکستان دوستی کے اٹوٹ رشتے سے بندھا ہوا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم تر ہو رہا ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کو عطیہ کی جانے والی پانچ لاکھ خوراکوں کو خرد برد ہونے یا وی وی آئی پیز کے قبضہ میں جانے سے بچایا جائے۔ پاکستان میں کرپشن عروج پر ہے، قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ دواساز کمپپنیاں لاتعداد دوائیں بنا رہی ہیں لیکن دواؤں میں معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا،معیار کے بارے میں لوٹ مار ہو تی ہے۔ ڈاکٹرز کو مراعات دی جاتی ہیں اس کے نتیجہ میں بھی بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے دعوی کیا تھا کہ یہ ویکسین پاکستان میں بھی بن چکی ہے۔ حکومت عوام کو بتائے کے یہ عام عوام کے استعمال کے لئے کب دستیاب ہوگی؟ پاکستان میں تیار شدہ ویکسین کی قیمت صرف لاگت کی بنیاد پر رکھی جائے۔ حکومت دو سالہ پالیسی وضع کرے جس میں بائیس کروڑ عوام کو یقینی ویکسین لگانے کا انتظام کیا جائے جس طرح پولیو ویکسین کے قطرے بچوں کو ہلانے کے عمل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کو امید ہے کہ دوست ملک چین نے کورونا ویکسین کو تمام تر حفاظتی ٹیسٹس سے گذارنے کے بعد پاکستانی عوام کے لئے عطیہ کیا ہوگا، پاکستانی حکومت بھی صحت جیسے اہم مسئلہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ویکسین کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد عوام کو لگانا شروع کرے۔ ویکسین کے معیار کے بارے میں تحقیقات کر لی جائیں۔
![]()