Home / اہم خبریں / آل گورنمنٹ ایمپلائز گرانڈ الائنس کا فائیر ووڈ الاوئنس میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی ریلی فیصلہ واپس لینے کیلئے حکومت کو 6 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرانڈ الائنس کا فائیر ووڈ الاوئنس میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی ریلی فیصلہ واپس لینے کیلئے حکومت کو 6 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن

چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیم آل گورنمنٹ ایمپلائز گرانڈ الائنس (اے جی ای جی اے) نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک احتجاجی ریلی نکالی اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے جلسہ بھی کیا۔ اگیگا یعنی آل گورنمنٹ ایمپلائز گرانڈ الائنس کے ضلعی صدر امیر الملک کے سربراہی میں یہ ریلی ہسپتال روڈ سے شروع ہوئی جو شاہی بازار اور اتالیق چوک سے گزرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے اکھٹے ہوئے ان لوگوں نے راستے میں نعرے بازی بھی کی اور صوبائی وزیر اعلی محمود خان کو جھوٹا وزیرا علی قرار دیا کہ انہوں نے اعلان تو کیا تھا مگر اپنے وعدے کو ایفا نہیں کیا۔ یہ ریلی ڈپٹی کمشنر کے سامنے یہ ریلی ایک احتجاجی جلسے میں منتقل ہوئی جہاں اگیگا کے ضلعی صدر امیر الملک نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کا سرد اور گرم موسم کے چارجز کو سرے سے ختم کئے ہیں اور فائیر ووڈ یعنی جلانے کی لکڑی کی الاؤنس میں کٹوتی کی ہے جوکہ سرکاری ملازمین کے ساتھ زیادتی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو ظالمانہ نوٹیفیکیشن مالاکنڈ ڈویژن میں جاری کیا ہے یہ ملازمین کے پیٹ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے یہ نوٹیفیکیشن 1943 سے لیکر 2021 تک ایک مستقل الاؤنس کے طور پر ملتا تھا اب موجودہ حکومت نے سرے سے اس الاونس کو ختم کیا ہے۔ یہاں موسم سرما میں منفی چار تک درجہ حرارت گرتا ہے جبکہ سرکاری ملازمین آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں اس دوران وہ اپنی قلیل تنخواہ میں جلانے کی لکڑی اپنے لئے خریدیں یا اپنے بچوں کا پیٹ پالیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے یہ ظالمانہ نوٹیفیکیشن واپس نہیں لیا تو اس کے برے نتائج رونما ہوں گے۔ انہوں نے چھ دسمبر تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس تاریح تک اس نوٹیفیکیشن کو ختم کیا جائے ورنہ سرکاری ملازمین اس کے بعد نہ صرف قلم چھوڑ ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے بلکہ وہ اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ امیر الملک نے کہا کہ موجودہ دور میں مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ غریب ملازمین بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی اور تعلیم دے سکتے ہیں اگر یہ ملازمین اسی تنخواہ میں سے اپنے لئے لکڑی بھی دفتر میں جلانے کیلئے اپنی جیب سے خریدیں گے تو ان کو کیا بچے گا۔ انہوں نے انصاف کے دعویدار حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اعلامیہ کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور سرکاری ملازمین کا پرانا گرم اور سرد موسم کے چارجز اور فائر ووڈ الاؤنس کو بحال کرے اور ان ملازمین کو احتجاج کرنے پر مجبور نہ کرے۔ اس احتجاجی ریلی اور جلسہ میں کثیر تعداد میں سرکاری ملازمین نے شرکت کی جو بعد میں پر امن طور پر منتشر ہوئے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے