کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈینسو ہال راہگزر لینڈ اسکیپڈ واکنگ اسٹریٹ‘ سی ای او ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف پاکستان یاسمین لاری کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جس کا آغاز میریٹ روڈ پہ کردیا گیا ہے۔ میریٹ روڈ پر پیدل چلنے والوں کے لئے تبدیلی ہیریٹیج فاؤنڈیشن‘ ڈی سی ساؤتھ‘ کے ای‘ اسپریچول چارڈس اور دادا بھائی فاؤنڈیشن کی مشترکہ کاوش ہے۔ روٹری کلب کراچی نیو سینٹرل اور اسٹارلنکس پی آر نے ڈینسو ہال کی صفائی اور میریٹ روڈ کی تاریخی اہمیت کی شعوری آگاہی پیدا کرنے کے حوالے سے 2019 ء میں ہیریٹیج فاؤنڈیشن سے اشتراک کیا۔ اس منصوبے کے تحت چار اتواروں تک میریٹ روڈ کی گلیوں میں جشن منانے‘ثقافتی عمارتوں اور جگہوں کو صاف کرنے اور اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد جیتنے کے لئے جمع ہوئے۔ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی دو سال کی لگاتار کوشش کے نتیجے میں 800 فٹ طویل سٹرک کی کھدائی کی گئی جس میں بجلی اور دیگر لٹکے ہوئے تاروں کو زیر زمین کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھوں اور دکانوں کی تجاوزات کا خاتمہ بھی کرادیا گیا۔ 400 فٹ طویل کم کاربن والا ایکو انکلیو بنایا گیا جس کا راستہ ٹیرا کوٹا سے کھڑے ہوئے راستوں پر مشتمل ہے‘ کا آغاز ہے جس میں میاواکی کے جنگلات کی چار نالیاں اور درمیان میں تین فوڈ کورٹ بھی شامل ہوں گے۔ آج کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد دنیا کو میریٹ روڈ پر جاری کام سے آگاہ کرنا تھا اور اُمید ہے کہ یہ کام دو ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ پیدل چلنے والوں کیلئے بنائی گئی سڑک پر آنے والی لاگت مکمل طور پر ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے اپنے ڈونرز کے تعاون سے برداشت کی ہے۔ سڑک تکمیل کے بعد یاسمین لاری کے خوابوں کے مطابق یہ سڑک کسٹم ہاؤس کے ویسٹ کو ایمپریس مارکیٹ کے ایسٹ سے منسلک کرکے کراچی کی عوام کو اپنے شہر کی ملکیت لینے کا موقع فراہم کرے گی۔ پروگرام کا آغاز جنگل نمبر 2 میں درخت لگانے سے ہوا‘ اس عمل میں وہاں موجود لوگوں بشمول دکانداروں نے حصہ لیا۔ مشہور تھیٹر اداکار اور میزبان عارف بہالیم نے اس دن کی کارروائی کا آغازکیا جبکہ ڈائریکٹر ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف پاکستان اور روٹری کلب نیو سینٹرل کی چارٹر صدر شہناز رمزی نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے منصوبے کا تعارف کرایا۔ انہوں نے کہا ”ایک سال سے 35 سابق بھکاریوں‘ خاص طور پر خواتین کی ایک ٹیم کو مکلی ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کے قریب فاؤنڈیشن کے زیرو کاربن کیمپس میں ہاتھ سے تیار کرنے والے ٹیراکوٹا پیورس کے مشکل کام میں مصروف عمل ہیں۔ ٹیرا کوٹا‘ انس اور پتھروں کے عناصر کی تیاری بشمول میریٹ روڈ سائٹ کے کام نے کئی مہینوں کے دوران متعدد کاریگروں کو معاش فراہم کیا ہے۔“ یاسمین لاری نے سرکاری عہدے داروں‘ میڈیا‘ اسٹیک ہولڈروں اور متعلقہ شہریوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ”ان ٹریلوں کو کراچی کے تاریخی مرکز میں کثافت اور ماحولیاتی کے منفی اثرات کو کم کرنے کی مناسبت کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خریداروں کی خوشنودی کے لئے تجاوزات اور کچرے سے بھرے میریٹ روڈ کو آلودگی سے پاک شاہراہ میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اتوار کے روز راہگزار کو ثقافتی سرگرمیوں کے علاقے میں تبدیل کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کے ذریعے اسٹریٹ تھیٹر‘ موسیقی‘ کتب بینی اور کرافٹ اسٹال پیش کئے جائیں گے جو دنیا کے سامنے کراچی کو ایک بہترین سیاحی مقام کے طور پر متعارف کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ مالکان کے تعاون سے سڑک کی دو جانب کی 12 تاریخی عمارتیں بھی بحال کی جائیں گی۔“ اس موقع پر دکانداروں نے خطاب کرتے ہوئے انتہائی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی گلی کو قبل ازیں اتنا صاف ستھرا نہیں دیکھا‘ بعد ازاں اسپریچول چارڈس اور دادا بھائی فاؤنڈیشن کی نمائندہ مریم پردیسی نے خطاب کرتے ہوئے اس تاریخ ساز پروگرام کے ساتھ اشتراک پر اظہار مسرت کیا۔ ڈی سی ساؤتھ ارشاد علی سدھیر نے اپنی مستقل حمایت کی پیش کش کرتے ہوئے اس منصوبے کی تکمیل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مہمان خصوصی کمشنر کراچی نوید احمد شیخ نے یاسمین لاری کے ویژن کی تکمیل کے لئے سندھ حکومت کے اشتراک اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ڈینسو ہال راہگزار نے سول سوسائٹی اور سرکاری تنظیموں کے مابین باہمی تعاون اور دکانداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈروں کے اشتراک کی ایک انوکھی مثال پیش کی ہے۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ پیچیدہ مسائل سے دوچار ایک علاقہ عوامی فنڈز کا سہارا لئے بغیر بھی صرف باہمی تعاون کی کوششوں سے تبدیل ہوسکتا ہے۔ اسپانسرشپ کے ذریعے اکٹھے ہونے والے فنڈ کو علاقے میں اگلے ایکو انکلیو کی تشکیل کے لئے استعمال کیا جائے گا۔