ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) سائبر کرائم ایکٹ کی منظوری کے باوجود ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ جدید آلات سے محروم ہے۔ آن لائن فراڈ میں شہریوں کو رقم سے محروم کرنے والے جرائم پیشہ عناصر جدید ترین سہولیات سے لیس ہیں۔ سائبر کرائم حکام کو ملزمان کی تلاش کے لئے موبائل لوکیٹر حاصل کرنے کے لئے دوسرے اداروں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ دور میں سائبر کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث سائبر کرائم ایکٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے زیادہ فراڈ کی وارداتیں انٹرنیٹ کے ذریعے کی جارہی ہیں اور اس کی روک تھام کے لئے ایف آئی اے سائبر کرائم کے حکام کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا تھا لیکن تاحال ایف آئی اے حکام جدید جرائم کو پکڑنے میں پرانا طریقہ کار اپنا رہی ہے فیس بک پر بلیک میلنگ، عریاں تصاویر اپ لوڈ کرنے، آن لائن بینکنگ فراڈ اور جعل سازی سے متعلق درجنوں شکایات درج ہوچکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیس بک پر بلیک میلنگ سے متعلق انکوائریوں میں فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کیا جاتا ہے اور فیس بک انتظامیہ تمام معلومات باآسانی فراہم کردیتی ہے جس میں ملزمان تک رسائی میں زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جبکہ آن لائن بینکنگ فراڈ میں ملوث مافیا اور انٹر نیٹ پرجعلسازی میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لئے تفتیشی افسران کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔
![]()