ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد غوری) ایک سازشی متعصب ٹولہ حکومت کے ہر اچھے اقدام کو بھونڈے طریقے سے سرانجام دے کر بھلائی کے بجائے برائی حکومت کے گلے میں ڈال دیتا ہے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے رہنماء شہری اتحاد کے کنوینر عبدالعزیز غوری نے غوری ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں اور معززین شہر سے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ناجائز تجاوزات کا خاتمہ ایک اچھا فیصلہ تھا مگر اندھا دھند کاروائی نے اس کو بھی مشکوک بنادیا حکومت مائی باپ کی طرح ہوتی ہے وہ عوام کو روزگار کا وسیلہ فراہم کرتی ہے مگر حکومت نے غریب کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا لاکھوں انسانوں کو مصیبت میں ڈال دیا کوئی متبادل جگہ دینے سے پہلے ہی ان کے مکانوں اور دوکانوں کو منہدم کردیا جن کے خلاف کاروائی کرنا تھی ان کو تو حکومت میں شامل بااثر لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے دوسری جانب تھر کے بےحال لوگوں کو طبی سہولت پہنچانا حکومت کی ذمہ داری تھی مگر حکومت نے شہروں سے ڈاکٹروں کو نکال کر تھر پہنچادیا حالانکہ اس علاقے سے بھی ڈاکٹر مل سکتے تھے مگر ایسا نہی کیا ضلع سانگھڑ کا دل کہلانے والا شہر ٹنڈو آدم جوکہ ایک صنعتی و تجارتی شہر ہے پورے تعلقہ میں حکومت سندھ کا صرف ایک ہی تعلقہ ہسپتال ہے اس ہسپتال میں احسن طریقے سے ڈیوٹی دینے والے قابل ڈاکٹروں کو بھی تھر میں بھیج دیا گیا ہے تعلقہ ٹنڈو آدم کی غریب عوام پریشان ہیں ہسپتال کو اپ گریڈ کرنے کے بجائے اسے ڈی گریڈ کردیا ہے علاقے کے ایم این اے روشن دین جونیجو، ایم پی اے فراز ڈیرو اور سینیٹر ملک امام الدین شوقین ایک ہی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں انکا فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے کی عوام کو طبی سہولت دینے والے واحد سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں کو واپس ٹنڈو آدم کے تعلقہ ہسپتال میں تعینات کرکے اور تعلقہ ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے ٹنڈو آدم کی عوام کو ریلیف دیں عوام آپ لوگوں سے بہت توقعات کیے ہوئے ہیں اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ٹنڈو آدم حاجی نورحسن، نائب امیر ضلع سانگھڑ مشتاق احمد عادل، عبدالغفور انصاری، قیم جماعت عبدالستار انصاری، الخدمت فاوُنڈیشن ضلع سانگھڑ کے صدر سید توحید شاہ اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔
![]()