کانگریس – پیپلز پارٹی۔ راہول اور بلاول
تحریر ۔ محمد جواد بھوجیہ
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں پیپلز پارٹی اور بھارت میں کانگریس لگ بھگ ایک طرح کی سوچ کی حامل سیاسی جماعتیں شمار ہوتی ہیں۔دونوں سیاسی جماعتیں معتدل سوچ رکھتی ہیں اور دونوں مما لک کے سخت نظریات رکھنے والے افراد کو دونوں سیاسی جماعتیں قطعا پسند نہیں ہیں تاہم یہ بات ماننا ہوگی کی دونوں سیاسی جماعتوں نے اپنے نظریات پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا اور سیاسی پچ پر ان نظریات کی بنا پر مشکل صورت حال کا شکار رہیں۔بھارت کے اب تک ہونے والے15نتخابات میں کانگریس نے 6 میں کامیابی حاصل کی اور 4 میں اتحادی حکومتیں بنائی یوں بھارت پر براہ راست 49 سال کانگریس نے حکومت کی 2014 میں کانگریس کو تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں لوک سبھا کی 543 میں سے کانگریس کے حصہ میں صرف 44 سیٹیں آئیں، ٹھیک اسی طرح کانگریس سے عمر میں تقریبا اسی سال کم عمر پاکستان پیپلز پارٹی بھی 71 سال میں 40 سالہ جمہوری دور میں لگ بھگ 20 سال حکومت رہی اور 2013 میں اسے بھی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں ایک اہم بات ہمیں سامنے رکھنا ہوگی دونوں جماعتوں نے شکست کے بعد قیادت نوجوان خون کو فراہم کی۔ راہول گاندھی نے عملی طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ملک بھر میں کانگریس کو دوبارہ اپنے پاؤں پر لاکھڑا کیا۔ 2013 میں بدترین شکست کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو کو ملی تاہم مکمل اختیارات انہیں کبھی حاصل نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ راہول گاندھی کی طرح 2018 الیکشن میں نتائج نہ دے پایا۔ آج راہول بھارت میں مودی جیسے مقبول وزیر اعظم کو دھول چٹا رہا ہے اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کانگریس نے کامیاببوں کی ابتدا کردی ہے اور بے جے پی کے اقتدار والی دو ریاستوں میں کانگریس کی اس جیت کو بھارت کی سیاست میں اس کی موثر واپسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ انڈیا کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں جہاں تین شمالی ریاستوں میں بی جے پی کو کانگریس کے مقابلے پر شکست کا سامنا ہے دیگر دو میں علاقائی جماعتیں آگے ہیں تاہم یہاں بھی کانگریس کے نمبر بی جے پی سے زیادہ ہیں۔ مدھیہ پردیش میں دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ چل رہا ہے اور فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آخر میں کس کو فتح نصیب ہوگی۔ ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت تھی اور اب تینوں میں کانگریس آگے ہے اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ان ریاستوں میں وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ چند ماہ میں انڈیا میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور شمالی ریاستوں میں بی جے پی کی ممکنہ شکست پارٹی کے لیے بہت بڑا انتخابی دھچکا ہے۔ وہیں نوجوان راہول اور ان کی پارٹی کے لیے کسی بھی بڑی کامیابی سے کم نہیں۔ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو بیشتر نشستیں شمالی ریاستوں سے ہی ملی تھیں جبکہ کانگریس کا شمالی ریاستوں سے مکمل طو پر خاتمہ ہو گیا تھا۔ کانگریس نے نمایاں طور پر تین اہم ریاستوں میں اپنی کاکردگی کو بہتر بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں اس رائے کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی کہ وزیراعظم مودی کو شکست نہیں دی جا سکتی ٹھیک اسی طرح کی صورت حال الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی کو درپیش تھی۔ سندھ کے علاوہ تینوں صوبوں میں ان کے سیاسی مخالفین کی حکومتیں تھیں تاہم بلاول بھٹو راہول کی طرح اپنی پارٹی کے نمبرز نہ بڑھا سکے تاہم پیشقدمی میں ضرور کامیاب رہے۔ دونوں ممالک میں سیاست ایک طرح کی ہے اور عوام کا مزاج بھی تقریبا ایک جیسا ہے۔ تاہم کانگریس کی کامیابی نے بھارت میں بے جی پی کے سخت نظریات اور روایتی مذہبی کارڈ کی بجائے معتدل سوچ کی حامل کانگریس کو کامیاب کرکے ثابت کردیا ہے کہ بھارت کی اکثریت معتدل سوچ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ لوک سبھا کے انتخابات آئندہ چند ماہ میں ہوں گے تاہم ریاستی انتخابات نے ان کی راہ متعین کردی ہے۔ اس میں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک مثال ہے وہیں مذھب کی بنیاد پر نفرت بییچنے والوں کے لیے نوشتہ دیوار
![]()
نوٹ: آزادیِ اظہار رائے کے احترام میں کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔