ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ایڈیشنل سیشن جج ڈیرہ شاکر اللہ خان نے تھانہ سٹی کی حدو د محلہ فاروق اعظم میں بیوی کو طلاق دے کر دو ماہ سے زائد عرصہ تک اسے اپنے ساتھ غیر قانونی اور غیر شرعی طور پر رکھنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ روپے دونفری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ملزم کی جانب سے برہان لطیف خیسوری ایڈوکیٹ جبکہ خاتون کی جانب سے قربان علی ایڈوکیٹ اور وقار عالم ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس کے مطابق علاقہ دین پور کی رہائشی پچیس سالہ خاتون نے تھانہ سٹی میں رپورٹ درج کرائی کہ اس کی شادی ملزم زاہد یار ولد محمد یار قوم ڈمرہ سکنہ محلہ فاروق اعظم سٹی ڈیرہ کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے چند روز بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ اور ایک بیٹی اور بیٹے کا باپ ہے جبکہ اس کی پہلی بیوی شوہر کے رویے سے تنک آکر بچوں کے ہمراہ اپنے میکے میں رہائش پزیر ہے۔ اس کے باوجود میں خاندان کی عزت و ناموس کی خاطر خاموش رہی اور اپنے شوہر کے ساتھ وقت گزارتی رہی۔ ایک روز میں نے گھر کے اندر موجود کاغذات میں سٹام پیپر موجود پایا جس پر میرا طلاق نامہ تھا ۔اس میں میرے شوہر زاہد یار نے مجھے گواہوں کی موجودگی میں تحریری طور پر طلاق دے رکھی تھی اور اس نے دو ماہ گیارہ دن یہ بات میرے سے پوشیدہ رکھ کر مجھے غیر قانونی اور غیر شرعی طور پر اپنے ساتھ رکھا۔ میرے پوچھنے پر وہ طیش میں آگیا اور طلاق نامہ میرے ہاتھ سے چھین کر مجھے تین بار طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ خاتون کی رپورٹ پر اس کے سابق شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کو گرفتارکرلیا گیا۔ عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت پر بحث سننے کے بعد اسے ایک لاکھ دونفری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
![]()