کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان سکھ کونسل کے پیٹرن انچیف سردار رمیش سنگھ خالصہ اور دیگر ممبران کا کراچی پریس کلب پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج کا دن سکھوں کی تاریخ میں بہت بڑا دن ہے کیونکہ ہر سکھ اپنی ارداس واھے گرو سے گورودوارہ صاحبان کے درشن اور سیوا سنبھال مانگتے ہیں ایسے گورودوارے جو 1947 میں سکھ دھرم سے بچھڑ گئے تھے۔ آج کے اس تاریخی دن پر ہمیں فخر محسوس ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری ارداس قبول کی اور آج بابا گورو نانک دیو جی کے آباد کیئے ہوئے شہر کو پھر سے آباد کر رہے ہیں۔ پاکستان عوام دوست اور مہمان نواز ملک ہے۔ اور آئیں دیکھیں پاکستانی آپ لوگوں سے کتنا پیار کرتے ہیں سکھ اور پاکستان کا رشتہ پاکستان کی دھرتی سے بہت مظبوط ہے۔ ہم فخر محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پہل کرتے ہوئے کرتارپور بارڈر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان سکھ کونسل نے بھی بھارت سرکار سے بھی کرتارپور بارڈر کھولنے کا مطلبہ کیا تھا جسے بھارت سرکار نے مان لیا۔ اور تاریخ ساز فیصلے سے دونوں ممالک نے سکھوں کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے ان کے دل جیت لیئے ہیں آج کا دن سکھ برادری کے لیئے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور نارووال دنیا بھر کی سکھ برادری کے لئے ایک تاریکی مقام کی حیصیت رکھتا ہے جہاں بابا گرونانک صاحب نے اپنی زندگی کے 18 سال گزارے اور اسی مقام پر بابا فرید کا کالام بھی پڑھا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بابا گرو نانک دیو جی کی مقدس دھرتی سری ننکانہ صاحب کو ہولی سٹی کا درجہ دیا جائے۔ اور کراچی میں بھی بڑی تعداد میں سکھ برادری رہتی ہے اور بڑی تعداد میں گرودوارے بھی ہیں جن کی زمیں پر قبضہ ہوچکا ہے اسے خالی کرایا جائے۔ اور گرودوارے کے لیے زمیں الاٹ کی جائے۔
![]()