کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) چیئرمین فشر مینز کو آپریٹیو سوسائٹی عبدالبر نے کہا ہے کہ ماہی گیری کے پیشے سے 20 لاکھ خاندان وابستہ ہیں- نئی ڈیپ سی پالیسی 2018 ماہی گیروں کا معاشی قتل ہے۔ چیئرمین ایف سی ایس عبدالبر نے کہا کہ وفاق نے ماہی گیری کے لئے سمندر کو بھی تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے- حکومت نے نئی ڈیپ سی پالیسی بناتے وقت اور اس کے نفاذ سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا، چیئرمین ایف سی ایس عبدالبر نے کہاکہ ماہی گیروں کا احتجاج جائز ہے اور ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں، مگر احتجاج کی آڑ میں کسی شرپسندی کو برداشت نہیں کریں گے۔ چھوٹے ماہی گیروں کی مچھلی لوٹنے والے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصراحتجاجی ماہی گیروں کی صفوں میں شامل ہو کر ان کی احتجاجی تحریک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ چیئرمین ایف سی ایس عبدالبر نے کہاکہ ماہی گیر گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج پر ہیں، اور نئی ڈیپ سی پالیسی کے نفاذ کے بعد ماہی گیروں کے جاری احتجاج سے ابتک فشر مینز کو آپریٹیو سوسائٹی کو ایک ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ چیئرمین عبدالبر نے مزید کہا کہ پچھلے سال مچھلی کی ایکسپورٹ 325 ملین ڈالر رہی، اور اس سال ایکسپورٹ کے حجم کا تخمینہ 451 ملین ڈالر لگایا گیا تھا، مگر وفاقی پالیسی نے سب تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے۔
![]()