پشاو (بیورو رپورٹ) کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے وفاقی خفیہ ادارے کے تعاون سے شہر میں قائم جعلی کرنسی فیکٹری سے 6 کروڑ کے قریب جعلی کرنسی بر آمد کرلی فیکٹری سے جعلی کرنسی بنانے والی مشینری اور دیگر سامان کو بھی تحویل میں لے لیا جعلی کرنسی بنانے میں ملوث 9 ملزمان کے گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا گرفتار ملزمان جعلی کرنسی بناکر ملک کے دوسرے شہروں میں منتقل کرنا چاہتے تھے- تفصیلات کے مطابق سی سی پی او قاضی جمیل الرحمان کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ کچھ جعل ساز عناصر پشاور کے نواحی علاقہ میں بڑے پیمانے پر جعلی کرنسی بنانے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں جو جعلی کرنسی بنا کر ملک کے دوسرے شہروں کوسپلائی کرنا چاہتے ہیں اطلاع کو مصدقہ جانتے ہوئے ایس ایس پی آپریشن جاوید اقبال کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دیتے ہوئے جعلی کرنسی بنانے میں ملوث ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کر نے کا ٹاسک حوالہ کیا گیا- ایس ایس پی آپریشن جاوید اقبال کی سربراہی میں ڈی ایس پی سبرب فضل واحد خان، ایس ایچ او تھانہ آغہ میر جانی شاہ عباد وزیر اور ایس ایچ او تھانہ بھانہ ماڑی واجد خان نے کارروائی کرتے ہوئے رنگ روڈ چوک میں ایک ملزم امجد ولد بہادر نواز سکنہ درہ آدم خیل کو گرفتار کر لیا جس نے انٹروگیشن کے دوران جعلی کرنسی بنانے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی نشاندہی پر شہر کے نواحی علاقہ کاکشال کے ایک گھر میں قائم جعلی کرنسی فیکٹری پر چھاپہ مار کر 2 دیگر ملزمان ساجد منصور ولد عبدالرشید سکنہ کاکشال جس کے گھر میں جعلی کرنسی کی فیکٹری قائم کی گئی تھی اور ارشد ولد قریش سکنہ اتمانزئی چارسدہ کو گرفتار کر لیا جبکہ جعلی کرنسی بنانے والی مشینری، پرنٹرز، کٹرمشین اور دیگر سامان کے ساتھ ساتھ 6 کروڑ کے قریب جعلی کرنسی بھی تحویل میں لے لی ملزمان نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید 17 کروڑ جعلی رقم بناکر دیگر شہروں کو سپلائی کرنا چاہتے تھے ملزمان کو مزید تفتیش کے لئے حوالات منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے انٹروگیشن کے دوران مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع کی جارہی ہے- سی سی پی قاضی جمیل الرحمان نے تمام ٹیم کی کاکردگی کو سراہتے ہوئے نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا-
![]()