کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) پارٹنرز اِن ڈویلپمنٹ اینڈ کنسلٹنسی (پی آئی ڈی سی) کی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ کو 2035 تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور توانائی کے شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید 6.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی یہ انکشاف کراچی میں ’’سندھ میں توانائی اور موسمیاتی فنانسنگ کے منظرنامے پر ازسرنو غور، بحران، گورننس اور سکیورٹی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ صوبائی کانفرنس میں ہوا، جس میں سندھ اسمبلی کے ارکان، صوبائی حکومت کے افسران، ریگولیٹرز، ترقیاتی اداروں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پی آئی ڈی سی کی سندھ کلائمیٹ فنانس نیڈز اسیسمنٹ کے مطابق توانائی کے لیے 1.89 ارب ڈالر، زراعت کے لیے 361 ملین ڈالر، پانی و آبپاشی کے لیے 3.61 ارب ڈالر جبکہ ماحولیات اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے 568 ملین ڈالر درکار ہوں گے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سندھ کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث سالانہ تقریباً 18.3 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے، جو صوبے کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے جبکہ 2022 کے سیلاب سے سندھ کو تقریباً 7.9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
کانفرنس میں سندھ کے توانائی کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق جھمپیر، گھارو ونڈ کوریڈور قابلِ تجدید توانائی کا اہم مرکز ہے جبکہ ٹھٹھہ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی 550 میگاواٹ صلاحیت موجود ہے پی آئی ڈی سی نے سندھ میں موسمیاتی فنانسنگ کے لیے مربوط سرمایہ کاری منصوبوں، بہتر مالی نگرانی، منی گرڈز اور آف گرڈ نظام کے لیے واضح قواعد اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی مؤثر نگرانی کی سفارش کی ہے۔