کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) کراچی کی مختلف صحافتی تنظیموں نے آزادیٔ اظہارِ رائے پر کسی بھی قسم کی پابندی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے پیکا ایکٹ واپس لینے، میڈیا پر عائد غیر اعلانیہ قدغنیں ختم کرنے اور میڈیا اشتہارات کو صحافیوں کی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی سے مشروط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کراچی پریس کلب میں کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے زیر اہتمام منعقدہ مذاکرے میں کیا گیا، جس میں سی پی این ای کے جوائنٹ سیکریٹری مقصود یوسفی، پی ایف یو جے دستور کے سیکریٹری اے ایچ خانزادہ، پروفیسر سلیم مغل، ڈاکٹر یاسمین فاروقی، نصر اللہ چودھری، ریحان خان چشتی، فاضل جمیلی، اسلم خان، طاہر حسن خان، لبنیٰ جرار نقوی، مظہر عباس، عامر لطیف سمیت دیگر صحافی رہنماؤں اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں خوف و ہراس کی فضا اور آزادیٔ اظہار پر غیر اعلانیہ پابندیاں جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہیں، لہٰذا صحافیوں کو آزادانہ اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
مقررین نے کہا کہ صحافت کا بنیادی مقصد سچائی کو عوام تک پہنچانا ہے، تاہم آج میڈیا شدید مشکلات سے دوچار ہے اور اربوں روپے کے اشتہارات ملنے کے باوجود میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے صحافی تنظیموں کے اتحاد، بے روزگار صحافیوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا کی تربیت، اور صحافیوں کے معاشی تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ مذاکرے میں صحافیوں کے مسائل کے حل اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے تحفظ کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ متفقہ قراردادوں کے ذریعے پیکا کے تحت صحافیوں کے خلاف درج تمام مقدمات فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لینے، پیکا ایکٹ کا ازسرِ نو جائزہ لینے اور آج ٹی وی، ایک نیوز، سنو ٹی وی سمیت تمام میڈیا اداروں میں تنخواہوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔