تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پاکستان کا مقامی کاٹن بنولے کے سیزن سے پہلے ہی امریکہ اور برازیل سے کپاس کی بڑی خریداری کا فیصلہ

پاکستان کا مقامی کاٹن بنولے کے سیزن سے پہلے ہی امریکہ اور برازیل سے کپاس کی بڑی خریداری کا فیصلہ

کراچی: پاکستان کی کپڑا سازی کی صنعت نے مقامی اوٹائی کا موسم پوری طرح شروع ہونے سے پہلے ہی امریکا اور برازیل سے کپاس کی غیر معمولی خریداری شروع کر دی ہے۔ اس پیش رفت نے ملک میں خام مال کی قلت، مقامی پیداوار میں کمی اور بیرونِ ملک سے خریداری پر بڑھتے ہوئے انحصار کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی کارخانوں نے گزشتہ ہفتے امریکا کی آئندہ فصل سے تقریباً دو لاکھ چھ ہزار ایک سو گانٹھیں خریدیں۔ یہ مقدار اس ہفتے فروخت ہونے والی امریکی کپاس کا بڑا حصہ بنتی ہے۔ اسی دوران برازیل سے بھی کپاس کی خریداری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہ صورتِ حال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں عام طور پر کپڑا بنانے والے کارخانے مقامی فصل کی آمد کا انتظار کرتے ہیں، تاکہ اپنی ضرورت کا بڑا حصہ اندرونِ ملک سے پورا کر سکیں۔ مگر اس بار معاملہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ بازار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کارخانوں کے پاس پرانا ذخیرہ کم رہ گیا ہے، جب کہ مقامی پھٹی اور روئی کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔ ایسے میں مل مالکان نے انتظار کرنے کے بجائے بیرونِ ملک سودے کرنے کو بہتر سمجھا۔

امریکا کے محکمۂ زراعت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے امریکا اور برازیل کپاس فراہم کرنے والے دو بڑے ملک ہیں۔ تاہم آنے والے سال میں برازیل کم قیمت کے باعث پاکستان کے لیے امریکا سے بھی زیادہ اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان سے کپاس کی آمد سرحدی پابندیوں اور سخت نگرانی کے باعث تقریباً رک چکی ہے، جس سے ملکی بازار میں فوری دستیابی مزید کم ہو گئی ہے۔

صنعتی اندازوں کے مطابق پاکستان کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے آنے والے کپاس سال میں تقریباً بہتر لاکھ گانٹھیں بیرونِ ملک سے منگوانی پڑ سکتی ہیں۔ مقامی پیداوار کا اندازہ تقریباً انہتر لاکھ چالیس ہزار گانٹھیں لگایا جا رہا ہے، جب کہ کپاس کی کھپت ایک کروڑ اکتالیس لاکھ پچاس ہزار گانٹھوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ فرق معمولی نہیں۔ کپاس پاکستان کی کپڑا سازی کی برآمدات کی بنیاد ہے۔ خام مال مہنگا ہو یا وقت پر دستیاب نہ ہو تو اس کا اثر صرف کارخانے داروں تک محدود نہیں رہتا؛ دھاگا، کپڑا، تیار ملبوسات، برآمدی سودے اور زرمبادلہ کی آمدنی سب متاثر ہوتے ہیں۔

ایک بڑی تشویش بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ بھی ہے۔ اگر پاکستان کو کپاس کی اتنی بڑی مقدار بیرونِ ملک سے خریدنی پڑی تو ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ پہلے ہی درآمدی ضروریات، توانائی کی لاگت اور ڈالر کی قدر صنعت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

برازیل کا کردار اس بار خاص طور پر نمایاں ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کی برازیل سے کپاس کی خریداری تیزی سے بڑھی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برازیل اب پاکستانی کپڑا سازی کی صنعت کے لیے ایک ثانوی نہیں بلکہ اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے نزدیک مسئلہ صرف ایک سال کی کمی کا نہیں، بلکہ کپاس کی کمزور ہوتی ہوئی ملکی معیشت کا ہے۔ پاکستان میں کپاس کا زیرِ کاشت رقبہ کئی برسوں سے دباؤ میں ہے۔ کسان بہتر آمدنی کے لیے گنا، مکئی یا چاول جیسی فصلوں کی طرف جا رہے ہیں۔ بدلتا موسم، کیڑوں کے حملے، ناقص بیج اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت نے بھی کپاس کو مشکل فصل بنا دیا ہے۔

حکومت کے لیے اب دوہرا امتحان ہے۔ ایک طرف کپڑا سازی کے کارخانوں کو وقت پر خام مال چاہیے، تاکہ برآمدی سودے متاثر نہ ہوں۔ دوسری طرف مقامی کسان کو یہ اعتماد دینا بھی ضروری ہے کہ کپاس اگانا نقصان کا سودا نہیں بنے گا۔ اگر مقامی پیداوار بحال نہ ہوئی تو ہر سال بیرونِ ملک کپاس پر انحصار بڑھتا جائے گا، اور عالمی قیمتوں، ڈالر کی قدر اور بندرگاہی اخراجات کا دباؤ براہِ راست پاکستانی صنعت پر پڑے گا۔

فی الحال بازار کا اشارہ صاف ہے: کارخانے انتظار نہیں کر رہے۔ انہوں نے مقامی اوٹائی کے موسم سے پہلے ہی امریکا اور برازیل سے کپاس بک کر کے یہ پیغام دے دیا ہے کہ انہیں اس سال بھی ملکی فصل سے اپنی ضرورت پوری ہونے کی زیادہ امید نہیں۔

About Mabruka Waseem

یہ بھی پڑھیں

آسٹریلیا کے ساتھ تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز کے لیے پاکستان کے 16 رکنی سکواڈ کا اعلان۔ احمد دانیال، عرفات منہاس اور روحیل نذیر قومی ون ڈے انٹرنیشنل سکواڈ میں شامل

لاہور، (اسپورٹس رپورٹر) پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے