کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر سکھر اور روہڑی کو ملانے کے لیے نئے پل کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں شہروں اور ملحقہ علاقوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پالیسی بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اہم امور کی بھی منظوری دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سکھر اور روہڑی ایک اہم شہری و معاشی راہداری بن چکے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ روزانہ آمدورفت کرتے ہیں۔ اس وقت مرکزی گزرگاہ ہے جس پر روزانہ 30 ہزار سے زائد گاڑیاں گزرتی ہیں، جبکہ سکھر برج کی مرمت کے باعث اضافی بوجھ بھی اسی پر آ چکا ہے۔ نئے پل کی لمبائی تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر ہوگی، جس میں ملٹی لین سڑک، بھاری ٹریفک کی گنجائش اور پیدل چلنے والوں کے لیے الگ راستے شامل ہوں گے۔
اجلاس میں شاہرائے بھٹو ایکسپریس وے کا بھی جائزہ لیا گیا جو 88 فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے، اور اسے اپریل 2026 تک مکمل طور پر فعال کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے ساتھ کاٹھوڑ انٹرچینج کے فزیبلٹی اور ڈیزائن کی منظوری دی گئی، جبکہ پی پی پی نظام میں شفافیت کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے گئے تاکہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔