کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں جعلی تعلیمی اسناد پر بھرتیوں کا سنگین انکشاف سامنے آیا اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے 3,500 ملازمین میں سے تاحال صرف 450 کی ڈگریوں کی تصدیق ہوسکی ہے جبکہ تصدیقی عمل کے دوران 10 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں پی اے سی نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو حکم دیا ہے کہ تین ماہ کے اندر تمام ملازمین اور افسران کی اسناد ہائر ایجوکیشن کمیشن سے لازمی طور پر تصدیق کرائی جائیں۔
ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈگریوں کی جانچ کا عمل ایچ آر ایس جی کمپنی کے ذریعے آؤٹ سورس کیا گیا ہے۔ جعلی اسناد پر بھرتی ہونے والے 10 ملازمین میں سے 8 کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے جبکہ دو کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں 3,500 میں سے 2,500 ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں اور جولائی 2021 سے جون 2025 تک مجموعی طور پر 3,023 افراد بھرتی کیے گئے جن میں صرف 54 ریگولر تقرریاں شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن کے آڈٹ پیراز بھی زیرِبحث آئے جہاں یہ انکشاف ہوا کہ 150 پینشنرز میں سے صرف 34 کے لائف اور نو میریج سرٹیفیکیٹس آڈٹ کو فراہم کیے گئے کمیٹی رکن طاحہ احمد نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرٹیفیکیٹس کی عدم فراہمی سے مشکوک پینشن ادائیگیوں کا خدشہ پیدا ہوتا ہے میونسپل کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ باقی تمام پینشنرز کا ریکارڈ جلد پیش کردیا جائے گا۔
پی اے سی نے صوبے کے تمام مقامی سرکاری اداروں میں جعلی تنخواہوں اور جعلی پینشن کے اجرا کی روک تھام کے لیے کے ایم سی کی طرز پر سیپ ڈیجیٹل سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری نے بتایا کہ حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد میں فروری یا مارچ 2026 تک ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن سیپ سسٹم کے تحت آن لائن کر دی جائیں گی۔