Home / اہم خبریں / آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی پالیسی کے خلاف ہیں- الطاف شکور، ڈاکٹر شاہدہ وزارت اور اقبال ہاشمی کا کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب

آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی پالیسی کے خلاف ہیں- الطاف شکور، ڈاکٹر شاہدہ وزارت اور اقبال ہاشمی کا کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر الطاف شکور نے کہا ہے کہ حکمران ’’نئے پاکستان ‘‘ کو قرضوں کے پرانے نیٹ ورک میں دھکیلنے کیلئے پہلے روز سے تیار تھے۔ کراچی پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران پہلے روز سے پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا مزید بوجھ لادنے پر تیار تھے مگر وہ قوم کو محض سبز باغ دکھا رہے تھے جبکہ ان کے پاس آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے جانے کے علاوہ بھی اور کئی آپشن موجود تھے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام کے باعث سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور نتیجے میں 90 کی دہائی میں حکومتوں گرتی رہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو سابقہ حکمرانوں کے راستے پر چلنے سے پہلے ان کا انجام بھی دیکھ لینا چاہئے۔ ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا ہے کہ آئن اسٹائن کا مقولہ ہماری موجودہ صورتحال کی بالکل ٹھیک عکاسی کر رہا ہے کہ ایک ہی کام کو بار بار کرنے سے نتائج مختلف ہونے کی توقع رکھنا پاگل پن ہے۔ آئی ایم ایف کی پالیسیاں اور آئی ایم ایف سے بولنے کی اجازت لے کر بات کرنے والے معاشی ماہرین کو فارغ کیا جائے اور محب وطن اور ملک کے لئے جذبہ، تڑپ اور اچھی سوچ رکھنے والے ماہرین کو آگے لایا جائے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے تنخواہیں وصول کرنے والے ملک کی تقدیر کبھی نہیں بدل سکتے۔ 90 کی دہائی کے بعد بہت بڑے پیمانے پر ہم قرضے لینا اور آئی ایم ایف پر انحصار شروع کیا۔ جس وجہ سے عائد کردہ سخت شرائط نے ہماری معاشی حالت کا جنازہ نکال دیا۔ تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت کو ہوش سے کام لینا چاہئے۔ آئی ایم ایف سے مزید قرضہ مانگ کر رہی سہی معاشی آزادی کو برباد کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ 90 کی دہائی میں ہماری سالانہ افزائش 4.6 فیصد تھی ۔ پھر اس کے بعد ہماری 5 ہزار سے زیادہ صنعتیں بند ہوگئیں۔ 40 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے جس کا سرکاری سطح پراعتراف کیا گیا لیکن اصل بے روزگاری شرح خوفناک ہے۔ ملک بھر میں 50 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آگئی ہے اور سندھ میں تو 85 فیصد تک شرح پہنچ گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر جرائم، چوری، ڈاکے، اغواء برائے تاوان اور ہوش ربا کرپشن کے واقعات آئی ایم کا تحفہ ہیں۔ ملک میں سیاسی بحران اور ایک کے بعد حکومت گرنے اور معیاد سے پہلے حکومتوں کی رخصتی بھی آئی ایم ایف کی پالیسیاں ہیں۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارات نے کہا کہ آئی ایم ایف سب سے پہلے روپے کی قدر گھٹا دیتا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی ہو تو حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ ہماری درآمدات اور برآمدات میں لچک نہیں ہے۔ جس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آنا لازمی ہے۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے حکومت کو مشورہ دیا کہ مہنگی درآمدات مثلاََ بیرون ملک سے آنے والے پھلوں، پنیر، چاکلیٹ، خوشبویات، سامان میک اپ، مہنگے موبائل فونز، لگژری گاڑیوں سمیت تمام تعیشیات سامان کی درآمدات پر پابندی لگائی جائے۔ غریب لوگ قربانی دے رہے ہیں تو امیر لوگ بھی تعیشات ترک کر کے قربانی دیں۔ وہ چیزیں جو ہماری ضروریات ہیں۔ جیسا کہ خوردنی تیل، پام آئل وغیرہ اس کے بارے میں بھی ہم بارٹرسسٹم کو رائج کریں۔ 90 کی دہائی میں ایران ہمیں تیل دے رہا تھا اور ہم سے مکیننکل کمپلیکس یعنی شوگر ملز کی مشینری مانگ رہا تھا مگر ہم نے تجویز قبول نہ کی۔ آئی ایم ایف معیشت کو سکیڑ دیتا ہے۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا کہ ہمیں پٹرہل کے بجائے ونڈ ، سولر اور ہائیڈل طریقے سے بجلی بنانے کو اولین ترجیح دینا ہوگی ۔ ہمیں اپنی برآمدات کے لئے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہوں گی۔  کھانے پینے کی چیزوں اور زراعت میں جی ایم او جے کو فروغ دینا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے متراف ہے۔ یورپ کے 27 میں سے 19 ممالک نے جی ایم او جے پر پابندی لگا دی ہے ۔ ہمیں بھی قدرتی بیجوں سے فصلوں کو بونا چاہئے۔ ہمارے پڑوس میں کسان خود کشیاں کر رہے ہیں۔ ان بیجوں پر پابندی لگانی جائے اور سبق سیکھا جائے۔ ہمارے ملک میں لیبلنگ لاء نہیں ہے۔ پارلیمنٹ اس سلسلے میں قانون سازی کرے۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے زور دے کر کہا حکومت نو آبادیاتی نظام سے باہر نکل آئے۔ خود مختار اور آزاد ممالک اپنے ذخائر اور راستے کسی کو مفت میں نہیں دیتے بلکہ مارکیٹ ریٹ پر منافع طلب کرتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ نیٹو سپلائی میں ہمیں کچھ نہیں مل رہا۔ نیسلے کمپنی 25 پیسے فی گیلن پانی کا معاوضہ دے کر 50 روپے لیٹر میں بیچ رہی ہے۔ نگر پارکر میں اگلے 100 سال کے لئے چکنی مٹی مفت میں دے دی گئی۔ آخر ہم بڑی طاقتوں اور بڑی کمپنیوں کی چاپلوسی چھوڑ کر ملک کے مفادات کے تحفظ کے لئے کب جاگیں گے؟ بھارت نے سونے کی صورت میں اپنے ذخائر جمع کر رکھے ہیں، 2000 ء میں میری اس تجویز پر آج تک توجہ نہیں دی گئی ۔ ملک سے باہر جانے والے پیسہ کو کڑی شرائط عائد کرکے روکا جائے۔ ایان علی ٹائپ کیسوں کے ذریعے قیمتی روپیہ باہر گیا، لوٹ مار، کرپشن، منی لانڈرنگ اور چوری کا پیسہ جو بیرون ملک لے جایا گیا اسے واپس لاکر استعمال کیا جائے۔ غریبوں پر بوجھ کم کرکے امیروں پر عائد کیا جائے اور امیروں سے وصول کردہ ٹیکس غریبوں کی تعلیم و صحت پر خرچ کیا جائے۔ عالیشان گھروں پر ٹیکس لگائے جائیں۔ سی پیک کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوتے ہی ہمیں دوسرے ممالک کو بھی دعوت دینی چاہئے کہ وہ صنعتیں لگائیں۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا کہ حکمران غیر ملکی ماہرین پر انحصار کرنے کی بجائے ہمارے اپنے ماہرین کے مہارت، تجربے اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے۔ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے غیر ملکی ماہرین کے مقابلے میں ملکی ماہرین کو اولین ترجیح دی جائے جوکہ ملک و قوم کے مفاد کو اولین ترجیح دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے قرضوں پر انحصار کی پرانی پالیسی پر عمل کرکے ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کی کوشش خطرناک ثابت ہوگی

About admin

یہ بھی پڑھیں

سی ایم (CM) پنجاب مریم نواز کے نام مجبور باپ کی فریاد

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے