Home / آرٹیکل / زندگی کا مسیحا سمجھے جانے والے کے لئے مسیحائی ضروری ہے یا پھر پیسہ؟ (آ پ بیتی) تحریر : محمد راشد

زندگی کا مسیحا سمجھے جانے والے کے لئے مسیحائی ضروری ہے یا پھر پیسہ؟ (آ پ بیتی) تحریر : محمد راشد

(زندگی کا مسیحا سمجھے جانے والے کے لئے مسیحائی ضروری ہے یا پھر پیسہ ؟ (آ پ بیتی

تحریر : محمد راشد

اٹھائیس ستمبر بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء اللہ تبارک وتعا لیٰ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا ،اولاد کی نعمت پا کر دل بہت خوش تھا، اولاد کو دیکھنے کی چاہ میں اسپتال پہنچا تو پتہ لگا کہ بچے کو سانس کی بیماری کی وجہ سےبرقی حرارت کی مشین میں ” انکیوبیٹر ” منتقل کر دیا ہے تاکہ پیدائشی بچے کا مناسب علاج کیا جا سکے، وہ رات گھر جاکر گزاری، ڈاکٹر کی نظر میں چو نکہ” شبہ” تھا کہ خدا نخواستہ انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) کی ضرورت پیش آسکتی ہے، اس شبہ کے پیش نظر ہفتے کی صبح ڈاکٹر نے بچے کی طبیعت جانچنے کے بعد فوری طور پر مجھے اسپتال طلب کیا اور کسی دوسرے اسپتال منتقل کر نے کی تجویز دی، یہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کچھ دیر کے لئے مفلوج ہوگئی، بچے کی دیکھ بھال پر معمور میڈیکل اسٹاف کے ایک نوجوان نے نجی اسپتال میں بچے کو منتقل کر نے کا مشورہ دیا، میں نے فوری طورپر حامی بھر کر وہاں شفٹ کر دیا۔

الحمد للہ عزوجل، ایسی نوبت نہیں آئی، پھر بھی (یہ لمحہ انتہائی کرب اور پریشان کن تھا، کیونکہ اس سے قبل کبھی نجی اسپتا ل سے علاج کا مشاہدہ نہیں ہوا تھا۔
بہر حا ل جیسے ہی نجی اسپتال پہنچا، وہاں داخل ہوتے ہی استقبالیہ پر بیٹھی خاتون نے کہا کہ سر ! برقی حرارت کی مشین میں "انکیوبیٹر” میں منتقل کر نے کے لئے آپ آ ج کی اور کل کی پیشگی داخلہ فیس جمع کروادیں، دیگر صورت میں بچے کو علاج کی غرض سے داخل نہیں کیا جائے گا، یہ جملہ سنتے ہی جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور دماغ کا پارہ فورا ہائی ہوگیا، استقبالیہ پر بیٹھی خاتون کو غیر مناسب لہجے میں کہہ ڈ الا (اس رویئے پر معذرت خواہ ہوں) ” تم میں احساس نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیا ؟ کیا تمہاری نظر میں انسان سے زیادہ پیسوں کی اہمیت ہے؟ لیکن ان لفظوں اور جذبات کا کسی پر کسی اثر پڑنا تھا بالخصو ص ایسے بے حس لوگوں پر ” جنہوں نے اسپتال انسانیت کی خدمت یا علاج کے غرض سے نہیں بلکہ پیسہ کمانے کی خاطر کھولا ہے” ۔ معالج یا اسپتال انتظامیہ کی آڑ میں انسانی زندگیوں کو سسکتا چھوڑنے والے بے حس اور لاپرواہ ایسے میڈیکل اسٹاف کو کیا معلوم کہ ایک باپ کے لئے اس کی اولاد کی کیا اہمیت ہے، انہیں تو بس پیسہ، پیسہ اور بس پیسہ ہی نظر آتا ہے چاہے اس کے لئے انہیں کسی کی تذلیل کرنا پڑے، کسی پریشان کو مزید پریشان کرنا پڑے، یا پھر کسی مجبور کی مجبو ری کا فائدہ اٹھانا پڑے، گویا کہ اگر کسی شخص کو جذبات و احساسا ت سے محروم کسی شخص کو دیکھنا ہے تو وہ صحت کے شعبے کا دورہ کر کے اپنی خواہشات کی تکمیل کر سکتا ہے۔

البتہ پانچ دن تک اس نجی اسپتال میں بچے کا علاج معالجہ جاری رہا اور اسی وجہ سے لگاتار مجبوری کے عالم میں اس بے حسی کے مقام کا دکھ بھرا نظارہ کرتا رہا، اس موقع پر ایسے ناگوار، مجبوری میں ڈوبے والدین اور بے آسرا لوگوں کو دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا کہ جنہیں دیکھنے کے بعد اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یہ دعا کی کہ ” اللہ پاک دشمن کو بھی اسپتال کی زندگی اور ان کے چکروں سے محفوظ فرمائے” ۔کیونکہ ایسے نجی اسپتالوں میں علاج کم اور مجبوری و لاچاری کا فائدہ انسان کی اوقات سے کئی گنا زیادہ اٹھایا جاتا ہے، کبھی بیماری کے نام پر، کبھی بیماری کی تشخیص کے نام پر، کبھی دواؤں کے نام پر، کبھی ڈاکٹر کی فیس کے نام پر اور کبھی نامعلوم بناء پر، (بلاشبہ ایسے بے حس لوگوں کی نظر میں انسانی جان سے زیادہ پیسہ بہت ضروری ہے)۔ آخر کار پانچویں روز ڈاکٹر نے یہ نوید سنائی کہ آپ کا بیٹا روبا صحت ہو رہا ہے، یہ سن کر اللہ پاک کی بارگاہ میں شکر ادا کرنے کی سعادت حاصل کی، خوشی کے آ ثار چہرے پر نمایاں ہوئے ہی تھے کہ ڈاکٹر نے یک دم رپورٹ سامنے رکھ کر دل جلانے والی خبر سنا دی کہ جس بیماری کو لے کرآپ آئے تھے وہ بیماری تو ختم ہوگئی ہے لیکن ! ایک دوسری بیماری کا خدشہ ہے کیونکہ بچہ اب دوائیاں (جوکہ ڈرپ کے ذریعے دی جا رہی تھی) ہضم نہیں کرپا رہا ۔ اتنا سننا تھا کہ زبان سے یک دم اللہ پاک سے رحم کی اپیل جاری ہوگئی۔

چونکہ ڈاکٹر اس بات سے پریشان دکھائی دیئے تو یہ بھی کہہ ڈالا کہ وہ ” 3 تین دن” کے لئے شہر سے باہر جا رہے ہیں لہذا بچے کو ( آغا خان اسپتال، این آئی سی ایچ ) کسی اور اسپتال منتقل کردیں۔ میں نے پریشانی کے عالم میں اپنی جان کاری کے لئے ایک ڈاکٹر سے رابطہ کرکے انہیں ساری صورتحال سے آ گاہ کیا، انہوں نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے تجربے کی روشنی میں بچے کو دوسرے اسپتال شفٹ کرنے کا مشورہ دیا۔

"یہاں یہ بات واضح کردوں کہ جب رپورٹ ڈاکٹر کے سامنے پیش کی گئی تو پتہ لگا، اس نجی اسپتا ل کے ڈاکٹر نے انفیکشن ختم کرنے کے لئے مناسب مقدار میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا مناسب استعمال نہیں کیا جس کی وجہ سے اینٹی بائیوٹک ادویا ت نے جسم کے اندرونی نظام کو متاثر کیا” لیکن ! اللہ پاک کا بہت کرم اور احسان ہے کہ رب العالمین نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اور اپنے نیک بندوں کی دعاؤں کی بدولت بچے کو صحت و تندرستی عطا فرمائی، جس کے بعد الحمد للہ تبارک و تعالیٰ میرا بیٹا اسپتال کے بستر سے اپنی والدہ کی آغوش میں منتقل ہوگیا ہے، اس پر اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے، یہاں ان ڈاکٹرز کا ضرور تذکرہ کروں گا جو ڈاکٹرز مال و ذر کی لالچ سے بے نیاز ہوکر مریض کی دیکھ بھال اور ان کا علاج سنجیدگی کے ساتھ اپنا فرض سمجھ کر کرتے ہیں۔ مذکورہ واقع چونکہ میری” آ پ بیتی ” ہے اس لئے اسے من و عن بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ورنہ مجھ جیسے ایک، دو، سو، دو سوں یا ہزار نہیں بلکہ لاکھوں مریض اور ان کے تیماردار ہیں جو اسپتالوں میں ڈاکٹر کی صحیح توجہ حاصل کر نے کے لئے بھی تذلیل کے مرحلے سے گزرتے ہیں اور علاج کروانے کے لئے ایڑیاں رگڑے دکھائی دیتے ہیں۔ میں یہاں حکومت یا کسی حکومتی نمائندوں کو مورد الزام نہیں ٹھہراؤں گا بلکہ صحت کے شعبے سے وابستہ مسیحا سمجھے جانے والے ڈاکٹرز، اسپتال مالکان اور میڈیکل اسٹاف کو یہ باور کروانا چاہوں گا کہ خدارا ! اپنے ” مقدس پیشے” کا لحاظ رکھیں، اگر کوئی بیمار یا اس کا نمائندہ آ پ کے پاس بیماری کے علاج کی غرض سے آئے تو اس کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے کی کوشش کریں اور علاج کی تشخیص کے لئے مناسب طریقہ اپنائیں کیونکہ آپ کام تکلیف دور کرنا ہے تکلیف دینا نہیں۔ مریض یا اس کا نمائندہ آ پ کے پاس بہت سے امیدیں لیکر آتا ہے کیونکہ اللہ پاک نے آپ کو اس قابل بنایا ہے ورنہ آپ کی اور ہماری اوقا ت اس قابل نہیں کہ کسی کے کام بھی آسکیں، آپ بے شک اپنی فیس ضرور حاصل کریں لیکن جائز طور پر ۔۔۔۔۔

صحت کے شعبے سے وابستہ افراد یہ بھی یاد رکھیں کہ علاج کرنا اور کروانا ” سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم” ہے، لہذا اپنے مقدس پیشے کے تقاضے کے مطابق بیماروں کے علاج میں بہتر معاونت فراہم کر نے کی کوشش کریں، ورنہ یاد رکھیں بستر مرگ پر آج کوئی مریض آپ کے سامنے ہے، کل یہی وقت آپ پر بھی آئے گا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

21 رمضان المبارک یومِ شہادت شیرِ خدا حضرت علیؓ حق، عدل اور شجاعت کی لازوال داستان ۔۔۔ تحریر : محمد احسان مغل

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی قیامت تک آنے والی نسلوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے