کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ حکومتوں کا کام بزنس چلانا نہیں ہے، قومی مفادات کا تحفظ مدنظر رکھتے ہوئے صنعتوں کو نجی تحویل میں دیا جائے۔ آئی ایم ایف کے فرمائشی پروگرامات پر ملک نہیں چل سکتا، کیونکہ انہیں صرف اپنے سود کی وصولی سے مطلب ہے، پاکستان کی خیر خواہی ہرگز مقصود نہیں ہے۔ حکومت کے پاس کوئی طویل المدتی پالیسی نہیں ہے۔ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو گھبراہٹ میں ردعمل دیتے ہیں۔ حکومت پاکستان پرائیویٹائزیشن پر واضح پالیسی اپنائے۔ ہر سال بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک ہزار ارب روپے بیمار صنعتوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، حالانکہ اس رقم سے عوام کے لئے سینکڑوں فلاحی پراجیکٹ لگائے جا سکتے ہیں۔
حکومت صنعتی ترقی کے لئے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی بجائے صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے۔ ٹرانسپورٹ سروس بھی پرا ئیویٹ سیکٹر کی تحویل میں دیا جائے۔ عوام کو براہ راست سستے ٹکٹ کی صورت میں سبسڈی دی جائے۔ اسکولوں اور اسپتالوں کو مقامی ماہرین پر مشتمل بورڈ کی تحویل میں دیا جائے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرح اسکول ایجوکیشن کمیشن بنا کر ان اسکولوں کو کارکردگی کی بنیاد پر فنڈز دئیے جائیں۔ مفاد عامہ کی خاطر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے ملک کے مضبوط معاشی نظام اور نجکاری کے موضوع پر تجاویز پیش کریں۔
پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں آئی ایم ایف کے پاکستان کی سرکاری کمپنیوں میں حکومتی کنٹرول کو کم کرنے کی فرمائش پر رد عمل کا اظہار اور حکومت کو تجاویز ارسال کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین اور پی کیو آئی کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ حکومت اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کر پا رہی ہے۔ اسد عمر کا یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے کہ پی آئی اے کے ساتھ اسٹیل ملز مفت ہے۔ یہ ملک و قوم کے قیمتی اثاثوں کے ساتھ سنگین لاپرواہی اور مذاق کے مترادف ہے۔ اسد عمر اپنا بیان واپس لیں یا اس کی وضاحت جاری کریں۔ الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاکستان کو صنعتی انقلاب کی ضرورت ہے۔ پرائمری صنعتوں پر انحصار مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے استفادہ اور صنعتی انقلاب کی تیاری ہی پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے۔
آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہونے کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی تکنیکی صلاحیت کو بڑھائے۔ پی آئی اے پر سالانہ 50 ارب روپے پھینکنے کے بجائے اس کی نجکاری کی جائے۔ بند اسٹیل مل کی نجکاری میں آخر کیا رکاوٹ ہے؟ یہ درحقیقت نیتوں کی خرابی کا مسئلہ ہے۔ الطاف شکور نے خدشہ ظاہر کیا اسٹیل ملز کو برباد کر کے زمین اونے پونے داموں میں رئیل اسٹیٹ ڈیولپرز کو بیچ دی جائے گی۔ نجکاری کے عمل کو کرپشن اور اقرباء پروری کی بھینٹ چڑھنے سے بچاکر، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہونے سے بچایا جائے۔ حکومت نجکاری کے بعد پرائیویٹ سیکٹرز کی کارکردگی پر بھی نظر رکھے۔ الطاف شکور نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتوں کو فروغ دیئے بغیر بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔