کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی موجودہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے نفاذ پر اسرار کی وجہ صرف کرپشن ہے کیونکہ وہ موجودہ بلدیاتی ایکٹ میں خامیاں انہیں اربوں روپے کی کرپشن کا موقعہ فراہم کر رہی ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی بلڈنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں متعدد شقیں صوبے کے بلدیاتی اداروں کی خود مختاری کو مجروح کررہی ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے اربوں کے فنڈز میں خورد برد کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں علی بابا اور چالیس چوروں کی حکومت ہے جو قومی خزانے اور صوبے کے عوام کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔
حال ہی میں وزارت خزانہ میں خدمات انجام دینے والے ایک آڈٹ اہلکار کے گھر پر چھاپہ مار کر اربوں روپے مالیت کے سونے کی اینیٹیں، بانڈز اور غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی اگر گریڈ 14 کے کسی اہلکار کے پاس اربوں کا سونا ہے تو سندھ حکومت کے وزراء سے سونے سے بھری لانچیں برآمد ہوسکتی ہیں، حلیم عادل شیخ نے الزام لگایا کہ حال ہی میں بھاری کالے دھن کے ساتھ پکڑے گئے لوکل گورنمنٹ اور آڈٹ ملازمین کے صوبائی وزراء اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ تعلقات تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات ہوتے اور انہوں نے اس طرح کرپشن کی ہوتی تو ان کے ووٹرز نے انہیں ان کے غلط کاموں کے لئے جوابدہ بنانا تھا کیونکہ عوام کی اپنے نمائندوں تک رسائی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: پانی و سیوریج کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کیلئے منصوبہ تیار ہے۔ انجینئر صلاح الدین پروجیکٹ ڈائریکٹر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ
https://www.nopnewstv.com/improve-water-and-sewerage
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ایس ایل جی اے-2013 میں 21 متنازعہ آرٹیکلز شامل کئے گئے ہیں براہ راست لوکل گورنمنٹ اداروں کی خود مختاری کو متاثر کرتے ہیں اور حکومت کے تیسرے درجے کو بے معنی اور ناکارہ بناتے ہیں اور اس متنازعہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو قابل قبول بنانے کے لیے ان متنازعہ شقوں باہر نکالنا ہوگا۔ ایس ایل جی اے-2013 کے آرٹیکل 74, 75, 77, 80, 87, 88, 92, 105, 112, 118, 119, 123, 144 اور ایکٹ کے شیڈول کی بعض دفعات مقامی حکومتوں سے سیاسی، انتظامی، مالیاتی امور کے اختیارات صوبائی حکومت کے حوالے کئے گئے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 140 اے کی خلاف ورزی ہے ایک مقامی کونسل اپنے طور پر پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی اسکیموں کو بھی حتمی شکل نہیں دے سکے گی۔ ہماری جنگ آئین کی بحالی کی ہے سندھ کالے قانون کے خلاف سندھ کے عوام سراپا احتجاج ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ بلدیاتی کالے قانون میں صوبائی حکومت کو اتنا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چیئرمین، ممبران یا پوری لوکل کونسل کو معطل کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے پیپلز پارٹی کے ٹریکٹر مارچ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے سندھ کے غریب کسانوں کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک ارب پتی کسان‘ کو مارچ میں ٹریکٹر چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی حکومت نے 3200 ٹریکٹروں کی سبسڈی اسکیم میں اربوں روپے کا غبن کیا اور ایک بھی ٹریکٹر حقیقی کسان تک نہیں پہنچا، انہوں نے مزید کہا کہ اومنی گروپ نے دھوکہ دہی سے کسانوں کے شناختی کارڈ پر سبسڈی والے ٹریکٹر ہڑپ کئے۔ حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ کئی کیسز عدالتوں اور نیب میں ہیں جبکہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے پلی بارگین کرکے ٹریکٹر سبسیڈی اسکیم پر کرپشن کا اعتراف بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے پاکستان کے کسانوں کو کسان کارڈ اور صحت کارڈ جاری کیے ہیں لیکن سندھ حکومت نے صوبے میں اس اقدام کو روک دیا ہے کیونکہ وہ کسانوں کو سہولت نہیں دینا چاہتے ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت نے محکمہ صحت کو تباہ کر دیا ہے اور سرکاری اسپتالوں کی صورتحال نازک ہے اور لوگ صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے کے پی، پنجاب، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہیلتھ کارڈ جاری کیے لیکن سندھ حکومت سندھ میں کارڈ کے اجرا میں رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحت صوبائی موضوع ہے اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کی رضامندی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کو کوویڈ-19 کی ویکسین فراہم کر رہی ہے اور ایکسپو سینٹر کراچی میں ویکسینیشن سنٹر قائم کیا گیا ہے جس کا انتظام بھی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے لیکن سندھ حکومت نے وہاں خدمات انجام دینے والے ویکسینیٹرز کو تنخواہیں ادا نہیں کیں اور وہ احتجاج میں سڑکوں پر نکل آئے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں کوویڈ-19 خطرناک حد تک پھیل رہا ہے لیکن سندھ حکومت اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ حلیم عادل نے بتایا کہ ناظم جوکھیو کی بیوہ نے محکمہ پراسیکیوشن کے خلاف پریس کانفرنس کی اور انصاف کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سراج لاشاری اور تنویر اوڈھو نے بہیمانہ قتل کی تحقیقاتی رپورٹ محکمہ پراسیکیوشن کو جمع کرائی تھی لیکن اسے ٹرائل کورٹ میں جمع نہیں کروایا جا رہا تھا تاکہ ملوث بااثر ملزمان کو ریلیف دلوایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں محکمہ پراسیکیوشن قاتلوں اور مجرموں کا سہولت کار بن گیا اور یہ محکمہ بھی مرتضیٰ وہاب کے ماتحت ہے۔ حلیم عادل نے مختلف اضلاع کے ایس ایس پیز کے تبادلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاخیری لیکن اچھا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹنڈو الہ یار کے ایس ایس پی جو کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے، کا تبادلہ پہلے کر دیا جاتا تو ضلع کے حالات مزید خراب نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مری کے افسوسناک واقعے پر فوری ایکشن لیا جس میں 23 افراد جان کی بازی ہار گئے لیکن سندھ میں ٹنڈو الہ یار اور ٹنڈو جام میں زہریلی شراب پینے سے 23 افراد جاں بحق ہونے پر غفلت برتنے والے افسران کے خلاف بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ پر سوال کے جواب میں حلیم عادل نے کہا کہ میڈیا میں آنے والی خبریں پریس ریلیز پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عادل گیلانی کی پریس ریلیز کی حیثیت رانا شمیم کے بیان حلفی کی طرح تھی اور غالباً یہ مریم نواز کے میڈیا سیل میں تیار کیا گیا ہوگا۔ ایک اور سوال پر حلیم عادل شیخ نے ایم کیو ایم پی کے رہنما وسیم اختر سے منسوب ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم کی ثقافت اور اقدار کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور ہر کسی کو ایسے لسانی یا نسلی ریمارکس دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نسلی تقسیم کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ کراچی نے اس کی بنیاد پر سینکڑوں افراد کی ہلاکت کو دیکھا ہے انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسے مسائل کو بڑھنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
![]()