کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور اے جے پروڈکشن کے تعاون سے سینئر صحافی اور اداکار اسد جعفری کی یاد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مظہر عباس نے کی، مہمانِ اعزازی میں اخلاق احمد، راجو جمیل، سیدہ افضل، سابق صوبائی وزیر رﺅف صدیقی، حسن جہانگیر، سعادت جعفری، قاضی ذاکر، غزل جعفری، ڈاکٹر ثنائ، پروین، علی جعفری، اطہر جاوید صوفی، عبدالوسیع قریشی، شیخ لیاقت علی، ڈاکٹر فاطمہ حسن، نرگس قمر، سہیل احمد و دیگر شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض اختر سروش نے انجام دیے، صدارتی خطاب میں مظہر عباس نے کہا کہ میں نے اسد جعفری کو ان کی تحریروں سے پہچانا، ان کی لکھی ہوئی ڈائری پڑھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اس ہفتے شہر میں کیا ہوا، انہوں نے کہا کہ جب تک اسد جعفری لوگوں کے لیے لکھتے رہے ہر انسان نے اس کا بھرپور استعمال کیا، جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں یہ مطلبی ہے ہمیں اس سے توقعات نہیں رکھنی چاہیے، اسد جعفری نے کبھی بھی اپنے ذاتی مسائل کسی سے بیان نہیں کیے انہوں نے بلا رنگ و نسل و زبان اور مفاد کے لوگوں کی خدمت کی، رﺅف صدیقی نے کہا کہ میں اسد جعفری کو اچھا نہیں سمجھتا تھا مگر ان کی ناقابل بیان جدوجہد نے مجھے بہت متاثر کیا، آج اگر اسد جعفری کا نام زندہ ہے تو اس میں قلم کا بڑا کمال ہے، علی سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود کو ایسا بنالو کہ لوگوں کو تم میں باپ کی تصویر نظر آنے لگے، اخلاق احمد نے کہا کہ 23 سال کی عمر میں اسد جعفری کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا میں نے صحافت اور شوبز کا ملاپ پہلی مرتبہ دیکھا جو حیرت انگیز بات تھی، وہ پریس ریلیز کی زبان کو زہر سمجھتے تھے اگر کسی تقریب میں جاتے تو سوال پوچھ لیتے لوگ حیران رہ جاتے، انہوں نے سوشل راﺅنڈ اَپ کو ذرے سے آفتاب بنایا، اخبارِ جہاں ان کا نیا جنم تھا ان کے ساتھ کام کرنا میرے لیے بہت اعزاز کی بات تھی، سیدہ افضل نے کہا کہ جب میں اسد جعفری سے ملی تو میٹرک کی طالب علم تھی مگر میں نے تصور نہیں کیا تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا، ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں مگر کسی کی تکلیف ان سے دیکھی نہیں جاتی تھی، آج وہ ہم میں نہیں جس کا مجھے بہت دُکھ ہے، غزل جعفری نے کہا کہ میں اسد جعفری کی بہت بڑی فین تھی، جب میری اسد جعفری سے شادی ہوئی تو میں 30 سال کی تھی اگر کوئی گھر آجائے چاہے اس کا نوکری کا مسئلہ ہو، کسی کو داخلہ کرانا ہو یا کوئی پریشان ہے اگر کسی سے راشن دلوانا ہے تو فوراً اس کے ساتھ چل دیتے تھے وہ انتہائی سخی دل ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی شخصیت کے مالک اور بہت بڑے انسان تھے، سوشل راﺅنڈ اَپ نے پورے کراچی میں دھوم مچائی، انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے ایسے ایسے لوگوں کے مسائل اُجاگر کیے جس کا آپ تصور نہیں کرسکتے صدارتی ایوارڈ ان کا حق ہے جس سے انہیں ضرور نوازا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: تمام ادارے اور علاقہ معززین ناران میں سیاحت کی ترقی کے لئے ملکر کوشش کریں گے۔ کمشنر ہزارہ
https://www.nopnewstv.com/tourism-in-naran
سعادت جعفری نے کہا کہ اسد سے میرا تعلق 50 سال پرانا تھا وہ بہت باتونی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا دوست بھی تھا اس کے ساتھ بیتایا ہوا وقت کبھی نہیں بھول سکتا، علی جعفری نے کہا کہ ابو کے مرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ابو کتنے بڑے آدمی تھے، انہوں نے ہمیشہ لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کیا، قلم کی طاقت کیا ہوتی ہے ابو نے عملی طور پر کام کرکے بتایا، میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ہمیشہ کی طرح آج بھی ان کا تعاون ہمارے ساتھ ہے، انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ابو کے حقیقی چاہنے والے ہیں میں ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ راجو جمیل نے کہا کہ اسد جعفری ہر شخص کا مسیحا تھا وہ بہت ہی محنتی آدمی تھا رات رات بھر پڑھتا رہتا ہمارا کوئی ویک اینڈ ایسا نہیں ہوتا تھا کہ ہم ساتھ نہ ہوں۔
![]()