Home/اہم خبریں/سندھ کے طلبہ کے مستقبل کو بچانے کے لئے انتخاب کا معیار 65 کے بجائے 50 مارکس کیا ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ و وزیر صحت سندھ کی مشترکہ پریس کانفرنس
سندھ کے طلبہ کے مستقبل کو بچانے کے لئے انتخاب کا معیار 65 کے بجائے 50 مارکس کیا ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ و وزیر صحت سندھ کی مشترکہ پریس کانفرنس
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی اور وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پپیچوہو نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ نے سندھ کے طلبہ کے مستقبل کو بچانے کے لئے انتخاب کا معیار 65 کے بجائے 50 مارکس کیا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس جو پہلے سندھ حکومت وصول کرتی تھی پھر لوکل کونسل کو دی جاتی تھی، اب اس کو دوبارہ کونسل کو دینے کے حوالے سے کابینہ نے دو کمیٹیز بنائی ہیں، ایک کمیٹی کے چیئرمین سیکریٹری قانون اور دوسری کے چیئرمین ڈیولپمنٹ بورڈ ہوں گے۔ بلدیاتی قانون پر مئیر اور چیئرمین کی خفیہ رائے شماری، صحت اور تعلیم کے مراکز کو صوبے میں منتقلی سمیت دیگر پر اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں ہمیں کسی سے بات کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ریگولائیزیشن کے حوالے سے ایکٹ سندھ کے عوام کے مفاد میں ہے اور اس کے تحت ہم ریٹائیرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن کی تشکیل چاہتے ہیں اور اگر پی ٹی آئی کو ریٹائرڈ جج پر اعتراض ہے تو وہ پنجاب میں بنے کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جج کی سربراہی پر کیوں اعتراض نہیں کرتے۔ سندھ میں اس وقت ہم کسی بھی لاک ڈاؤن کی فیور میں نہیں ہیں اور کورونا کیسز کی تعداد اس وقت کنٹرول میں ہے۔ نئے ویرینٹ کے لئے ضروری ہے کہ عوام ماسک پہنے، سینیٹائزر کا استعمال اور سماجی دوری کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات سندھ عبدالرشید سولنگی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں تین محکموں کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے متعلقہ محکموں کے وزراء اور سیکرٹریز نے بریفنگ دی، اجلاس میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی جو سندھ حکومت محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کی مدد سے کرتی ہے اور اس میں ڈی ایم سیز کو اس کا حصہ دیا جاتا ہے، اس ٹیکس کو لوکل کونسل کے سپرد کرنے کے حوالے سے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو 15 روز میں اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کریں گی، جس کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے ایس ای ایف سروس رولز، ڈاؤ میڈیکل اینڈ یونیورسٹی ایکٹ 2004 کی منظوری اور پاک آرمی کو 200 ایکڑ زمین دینے کی بھی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے کابینہ کے اجلاس میں میڈیکل داخلہ پالیسی کے حوالے سے سندھ کے طلبہ و طالبات کی پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سندھ میں ڈاکٹروں کی قلت اور آئندہ چار سالوں میں مزید قلت سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر سندھ کے طلبہ کے کیریئرکو بچانے کے لئے انتخاب کا معیار 65 کے بجائے 50 مارکس کیا ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ وفاق نے میڈیکل اورڈینٹل کالجزکے طلبہ کے داخلوں کاٹیسٹ ناتجربہ کارادارے کو دیدیا گیا، پی ایم سی کے ایکٹ میں بھی یہ چیزنہیں تھی۔ فیصلہ ان کے اصولوں کے خلاف تھا۔ ہم نے سندھ کے طلبہ کے کیریئرکو بچانے کے لئے انتخاب کا معیار 65 کے بجائے 50 مارکس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد داخلہ اور پالیسیاں بنانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے لیکن وفاق اس میں مسلسل دخل اندازی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال بھی ڈینٹل کالج میں 400 نشستیں خالی رہی جبکہ میڈیکل کالجز نے دیگر صوبوں کے بچوں کو داخلہ دیا او ر یہ ڈاکٹر بن کر اپنے اپنے صوبوں میں چلیں جائیں اور صوبہ سندھ جہاں پہلے ہی ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے اور ڈبلیو ایچ او کے تحت جہاں 350 بستر پر کم از کم ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے اس کے مقابلہ سندھ میں 3500 مریضوں پر ایک ڈاکٹر ہے اور اگر یہی پالیسی صوبہ سندھ کے ساتھ رہی تو آئندہ چار سالوں میں ہمارے صوبے میں ڈاکٹروں کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم سی کے چیئرمین اپنی طرف سے داخلہ کے لئے 65 فیصد پاسنگ اسٹینڈرڈ رکھ دیا اور اس پر صوبوں کو کسی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ میڈیکل میں داخلوں کے حوالے سے سوال پر ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ تمام انٹرمیڈیٹ کے نتائج آجانے کے بعد فوری داخلہ شروع کردئیے جائیں گے۔ افسران کی دیگر صوبوں میں روٹیشن پالیسی کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ 1954 کے رولز کے تحت جو بھی افسر کسی بھی صوبے میں آئے گا یا صوبے سے وفاق میں جائے گا، اس کے لئے صوبوں سے مشاورت کرنا ہوگی لیکن موجودہ نااہل حکومت نے گذشتہ سال صوبوں کی مشاورت کے بغیر ہی روٹیشن پالیسی خود ہی سے بنالی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق صوبے کے ساتھ اشیوز حل کرنے کی بجائے افسران کی گردن پر چڑھ کر ان کو دبا رہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہ ہم بلدیاتی قانون میں میئر اور چیئرمینز کے الیکشن کو سیکریٹ ووٹ کے ذریعے کروانے میں اعتراض ہے تو بات چیت کے لئے تیارہیں، صحت اور تعلیمی اداروں کو بہتر بنا رہے تھے اگر اعتراض ہے تو اس پربھی بات کرسکتے ہیں۔ سالڈ ویسٹ، بلڈنگ اتھارٹی اور واٹر بورڈ میں بلدیاتی نمائندوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے قوانین الگ الگ ہیں، صرف لوکل گورنمنٹ کے قانون میں تبدیلی کرکے یہ اختیار نہیں دے سکتے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان اداروں کے ایکٹ کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بلدیاتی نمائندوں کو مزید بااختیار کرنا چاہتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سمیت ماتحت عدالتوں کے فیصلے ہمیں پسند ہونا پسند ہمیں عمل کرنا ہے۔ ایسا کوئی فیصلہ جس سے ہزاروں لوگ متاثر ہو رہے ہوں اس پرعمل کرنے سے پہلے میں مستعفی ہونا پسند کروں گا، لیکن میں نے یہ نہیں کہا کہ میں اس فیصلہ کو نہیں مانتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے۔ ریگولائیزیشن ایکٹ کو گورنر سندھ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے کہ سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ایک جانب نسلہ ٹاور اور نالہ متاثرین سے یکجہتی کا ڈرامہ کرتی ہیں اور دوسری جانب ہم ان کو ریگولائیزڈ کرنے کے لئے پنجاب کی طرز پر کمیشن بنانے کی بات کرتے ہیں تو اعتراض کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پنجاب میں 6 ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ریگولائیزڈ کرنے کے لئے کمیشن بن سکتا ہے تو سندھ میں اس طرح کی عمارتوں، کچی آبادیوں اور سرکاری زمینوں پر کئی کئی سالوں سے آباد لوگوں کو ریگولائیزڈ کرنے کے لئے کمیشن پر کیوں اعتراض کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جج کی بجائے حاضر جج رکھنے کی بات بھی مضحکہ خیز ہے، اگر پنجاب میں ریٹائرڈ جج کمیشن کا چیئرمین بن سکتا ہے تو سندھ میں کیوں نہیں بن سکتا۔ پنجاب ریٹائر جج ہلال اور سندھ کی۔ حرام کیوں ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جو لوگ قبضہ کراتے ہیں ان کو سزا ملنی چاہیے، وہاں رہنے والوں کو سزا کیوں دی جارہی ہے۔ مصطفی کمال اور ایم کیو ایم سے پوچھیں کہ انہوں نے کتنے قبضہ کروائے۔ ہم نے عوام کے مفاد میں آرڈیننس جاری کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں 47 ہزار اساتذہ کی بھرتیاں مکمل میرٹ پر ہوئیں، کوئی ایک فرد نہیں کہہ سکتا کہ رشوت یا سفارش پر ٹیچر ٹیسٹ میں پاس ہوا۔