کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر سلمان اسلم نے اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی بلند ترین قدر پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی ریکارڈ ترین سطح پر پہنچ گئی جس سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر کاٹی کا کہنا تھا کہ طلب و رسد کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کا جواز نہیں، ڈالر کی طلب زیادہ ہونے پر ڈالر کی قیمت ضرور بڑھ سکتی ہے لیکن رسد میں اضافہ سے قیمتوں میں کمی نظر نہیں آرہی جو قابل تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کو ایک حد تک مارکیٹ میں فری فلوٹ چھوڑا جا سکتا ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی شرائط کی خبریں گردش کر رہی ہیں، ایسے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ سے نہ تو برآمدات میں کمی ہوئی اور نہ ہی درآمدکنندگان کو وہ فائدہ پہنچا جس کو جواز بنا کر ڈالر کی قدر بڑھائی گئی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ ڈالر کی قدر میں کمی کیلئے کوششیں کریں، اور آئی ایم ایف کو قائل کریں کہ پاکستانی معیشت ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ کی متحمل نہیں۔ کاٹی کے صدر سلمان اسلم نے کہا کہ پاکستان سے افغانستان بھی ڈالر کی اسمگلنگ کی جارہی تھی، جس پر حکومت کی جانب سے بارڈر سکیورٹی میں اضافہ سے اسمگلنگ پر کافی حد تک قابو پایا گیا ہے تاہم اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ نے صنعتکاروں کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خام مال کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جبکہ صنعتکاروں کو درآمدی آرڈر پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سلمان اسلم نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کے جاری اعداد و شمار کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتہ اضافہ ہوا، اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھی ریکارڈ ترسیلات زر ارسال کی گئیں جبکہ اس دوران قرضوں کی ادائیگی بھی نہیں ہوئی، اس کے باوجود ڈالر کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچنا تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب کی جانب سے مالی امداد کے باعث آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی متوقع ہے۔ صدر کاٹی نے اپیل کی کہ معاشی استحکام کیلئے ڈالر کی قیمتیں مستحکم رکھنا انتہائی ضروری ہے جس کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے۔