کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کیلئے بین الاقوامی سطح پر جاری مہم کے سلسلے میں گذشتہ روز کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن (سی اے آئی آر) کے تحت مختلف تنظیموں کے ایک اتحاد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیر ڈلاس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فیضان سید نے کہا کہ” ہمارا کانگریس کے وکالت کے دنوں ” ایڈوکیسی ڈے” کے سلسلے میں پہلے دن اس پریس کانفرنس منعقد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کانگریس کے اراکین کو یہ بتایا جا سکے کہ ان کے انتخابی حلقہ کے لوگ ڈاکٹر عافیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رے ہیں کیونکہ عافیہ صدیقی ایک ایسے جرم کیلئے 86 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہے جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔ ڈاکٹر عافیہ نام نہاد ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے دوران دنیا بھر میں سینکڑوں بے گناہ لوگوں کو اغواء کئے جانے والوں میں بڑے متاثرین میں سے ایک ہے جنہیں امریکی فنڈنگ کے ذریعے حراست میں رکھا گیا تھا۔ امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کی فیملی کی طرف سے نمائندگی کرنے والی اٹارنی مروا ایلبیالی نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد ڈاکٹر عافیہ کی غیر منصفانہ حراست کے بارے میں کانگریس کے اراکین کو آگاہ کرنا ہے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی متاثرہ ہے۔ میں نے ڈاکٹر عافیہ کا کیس جنوری 2021 سے لیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ پر مقدمہ کی سماعت کے دوران دہشت گردی کا کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے تھا جبکہ میڈیا نے 2003 میں اسے لیڈی القاعدہ کا خطاب دیا تھا مگر استغاثہ نے 2008 میں اس پر دہشت گردی کا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ ڈاکٹر عافیہ پر عدالت میں جو الزام عائد کئے گئے ان میں دہشت گردی کا ایک بھی الزام نہیں تھا۔ میں جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ایف ایم سی کارزویل جیل میں ملی تو اس کی جسمانی حالت بہت خراب تھی اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی عافیہ کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے اس لئے اس کی زندگی بچانے کیلئے اسے اس کے وطن پاکستان بھیج دیا جائے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 30 مارچ، 2003 سے 18 جولائی، 2008 تک ڈاکٹر عافیہ لاپتہ رہی تو اسے کہاں رکھا گیا تھا؟ وہ 18 سال سے زائد عرصے سے سلاخوں کے پیچھے موت تک جیل کی سزا کے ساتھ جی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی امریکی حکومت اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عافیہ کو فوری طور پر رہا کرانے کیلئے کارروائی کرے۔ نیہلا مارلیس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی واحد ویڈیو جو کہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے وہ اس ویڈیو میں پیلے کپڑوں میں ملبوس ہیں۔ اس لئے ہم نے پیلے کپڑوں شرٹ، کیپ اور اسکارف کے ساتھ ہیش ٹیگ آئی ایم عافیہ مہم شروع کی ہوئی ہے تاکہ ڈاکٹر عافیہ کے کیس کے بارے میں دنیا بھر میں آگاہی پھیلائی جا سکے۔ انہوں نے بھی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ کیر- ایس ایف بی اے کی سینیئر گورنمنٹ ریلیشن کوآرڈینیٹر ثمینہ عثمان نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ عظیم ناانصافی کی گئی ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نشانہ بن کر تقریباً دو دہائیوں سے قید میں ہے۔ اس کی آزادی کے لیے کام کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہم اپنے کانگریسی ارکان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کی رہائی پر زور دیں۔ کیر- ایم آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر داؤد ولید نے کہا کہ ڈاکٹرعافیہ کی غیر منصفانہ قید کا کفارہ محض انہیں رہا کر کے ادا نہیں کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی رہائی اور انہیں پاکستان واپس جانے کی اجازت دینا درست سمت میں ایک قدم ہوگا۔