Home/اہم خبریں/پی پی پی کے دور حکومت میں ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہو گیا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں ہوشربا اضافہ پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ طارق چاندی والا
پی پی پی کے دور حکومت میں ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہو گیا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں ہوشربا اضافہ پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ طارق چاندی والا
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے شہر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کا ایک مرتبہ پھر کرایوں میں اضافے پر مستقل حکومتی خاموشی کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہو گیا ہے۔ شہریوں کو سفری سہولیات ملنے کے بجائے جو پبلک ٹرانسپورٹ چل رہی تھی اب کم ہوکر نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے۔ گرین بسوں اورکراچی سرکلر ریلوے کے نام پر بھی عوام کو چونا لگایا جا رہا ہے۔ احتساب کے ادارے بڑے بڑے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں اور عام آدمی پبلک ٹرانسپورٹرز کے ہاتھوں لٹ رہا ہے۔
حکومت سندھ نے 2016 کے بعد کوئی کرایہ نامہ جاری نہیں کیا اور اگر جاری کیا ہے تو اسے سرکاری دفاتر کے درازوں میں کیوں رکھا گیا ہے؟ شہریوں کو سفری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے مگر سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ سے لیکر موجودہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صرف خوابوں میں بسیں اور جدید ٹرانسپورٹ چلا رہے ہیں۔ حکومت سندھ نے نہ پبلک ٹرانسپورٹ میں اضافہ کیا اور نہ ہی پرائیویٹ پبلک ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بار بار حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کے اقدامات کا نوٹس لیا۔ خستہ حال پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں آئے روز ہوشربا اضافہ کیا جا رہا ہے، حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ من مانے کرائے وصول کر کے عوام کی کھال اتاری جا رہی ہے۔ صوبائی سیکریٹری ٹرانسپورٹ، کمشنر کراچی، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور شہری حکومت اس تمام صورتحال پر خاموش کیوں ہیں؟ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کو زندہ درگور کر دے گا۔ کراچی کی آبادی بے تحاشہ بڑھ چکی ہے لیکن عوام کے لئے بہتر سفری سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ عوام کو خستہ حال، ٹوٹے پھوٹے چنگ چیز اور صدیوں پرانی بسوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
بسوں، منی بسوں، کوچز اور شہر میں چلنے والے 9/6 سیٹر رکشاؤں نے کرایوں میں من مانے اور ظالمانہ کرائے مقرر کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے عوام، ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز میں آئے روز جھگڑے معمول کی بات بن چکے ہیں۔ بسوں، منی بسوں اور کوچز میں طالبہ و طالبات کا آدھا کرایہ سسٹم بھی ختم کردیا گیا ہے۔ 7 سے 10 سال تک کے بچوں کا بھی پورا کرایہ لیا جاتا ہے اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات بھی روز کا معمول ہیں۔ انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ شہر کی تمام اندرونی و بیرونی آبادیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے، تمام پبلک ٹرانسپورٹ میں ٹکٹ سسٹم نافذ کرنے، خواتین کمپاؤنڈ میں مرد حضرات کو بٹھانے، طلبہ و طالبات سے آدھا کرایہ وصولی اور بچوں کو کرایوں سے مستثنیٰ قرار دینے کے قانون پر عمل درآمد کرائے اور فی الفور حکومتی کرایہ نامہ کا اجراء کرکے پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کیساتھ سڑکوں، چورنگیوں پر چسپاں کرنے اور عوام میں تقسیم کرنے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ شہر میں چلنے والے رکشاؤں کو رجسٹرڈ کرکے ان کے لئے بھی قانون بنایا جائے اور بغیر میٹر اور بغیر ٹکٹ پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کی جائے۔