کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما قاری شیر افضل، متحدہ مجلس عمل کے سابق پارلیمانی لیڈر مولانا عمر صادق، سابق رکن سندھ اسمبلی حافظ محمد نعیم، سابق چیئرمین ٹرانسپورٹ حافظ ا حمد علی، خواجہ احمد یار خان، مفتی حماد مدنی، مولانا مشتاق عباسی نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذرائع ابلاغ کی توجہ ایک ظالم، سنگدل اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے جھوٹی شہرت حاصل کرنے والے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی طرف دلانا چاہتے ہیں، گذشتہ کئی برسوں سے مختلف سرکاری اداروں اور بالخصوص پولیس کی سرپرستی میں زمینوں پر ناجائز قبضے اور چائنہ کٹنگ کا کام عروج پر رہا اور سرجانی ٹاؤن میں تقریبا تمام سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر چائنہ کٹنگ کے ذریعے قبضہ کر لیا گیا، سرجانی سیکٹر 9 میں حکومت سندھ نے ایک بھینس کالونی بنائی تھی، جس میں 12 سو پلاٹ اور 146 انڈسٹریل پلاٹ ہیں، قبضہ مافیا گذشتہ کئی برسوں سے سیکٹر 9 کی زمینوں اور بھینس کالونی کے 151 پلاٹوں پر نظر جمائے ہوئے تھا، اس ٹولے نے پولیس کے ساتھ مل کر بھینس کالونی کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو بھینس کالونی کے مکینوں، یونین عہدیداروں اور یونین کے صدر حافظ احمد علی نے اس ضمن میں بھرپور احتجاج کیا، تاہم سرجانی پولیس کی مکمل سرپرستی میں سرگرم اس مافیا کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں نہ آسکی، بھینس کالونی کے صدر حافظ احمد علی نے اس وقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار سے اسلام میں ملاقات کرکے انھیں قبضہ مافیا کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے آئی جی سندھ کو دئیے گئے سخت احکامات کے نتیجے میں 2 ارب روپے مالیت کی زمین قبضہ ہونے سے محفوظ رہی، سرجانی بھینس کالونی کے صدر حافظ احمد علی کا اس ضمن میں مزید کہنا تھا کہ 1 برس قبل ڈی آئی جی عامر فاروقی کے دست راست اور بزنس پارٹنر قمبر عباس المعروف عمران عباس نے سرجانی بھینس کالونی میں ایک باڑہ کرائے پر لیا اور ڈی آئی جی عامر فاروقی نے مجھے فون کرکے سفارش کی کہ عمران عباس کاخیال رکھیں ،کچھ عرصے بعد عمران عباس نے سرکاری اسپتال کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے باڑہ بنا لیا ،جس پر میں نے احتجاج کیا اور KDA کے افسران کو اطلاع دی، جس کے بعد عمران عباس میرے گھر پر آیا اورکہا کہ حافظ صاحب آپ ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں تو ہم چاروں مل کر خالی زمین پر باڑے بنا لیتے ہیں اور کرائے پر دے دیتے ہیں میں نے کہا کہ ہم دونوں کے علاوہ دوسرے دو کون ہیں تو اس نے ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کے نام لیے، میرے انکار پر ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایس ایس پی ڈاکٹررضوان مشتعل ہوگئے، 16 اپریل کو ڈاکٹر رضوان اور اس کی اسپیشل پارٹی کے بد نام زمانہ افسران ضلع دار اور اکبر شاہ نے میرے گھر پر چھاپہ مارا اور میری غیر موجودگی میں سرکاری گن مینوں کا اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے، بعدازاں 2 ارب روپے کی زمین پر قبضے کے لیے ملی بھگت کے ذریعے ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ ضلع ویسٹ میں کر دیا گیا، الیکشن کے بعد مذکورہ بالا افسران نے مجھ پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کیے، تھانے میں تعینات اہلکاروں کی جانب سے مطلع کیے جانے پر میں نے اعلی افسران کو آگاہ کیا، 18اگست کے روز میرے الیکشن ورکرر محمد صابر کو ڈاکٹر رضوان اور اسپیشل پارٹی کے انچارج ضلع دار نے اغوا کرلیا اور بد ترین تشدد کے بعد اس پر سنگین الزامات کے تحت جھوٹا مقدمہ قائم کر دیا گیا اوراسے میرے خلاف جھوٹا گواہ بنانے کی کوشش کرتے رہے- حافظ احمد علی و دیگر نے الزام عائد کیا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایس ایس پی ویسٹ ڈاکٹر رضوان اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمینوں پر قبضے، پٹرول و ڈیزل کی اسمگلنگ سمیت دیگر سنگین جرائم کی سرپرستی میں براہ راست ملوث ہیں، ان کی جانب سے اس ضمن میں آرمی چیف، وزیر اعظم پاکستان سمیت دیگر ارباب اختیار کو تحریری طور پر مطلع کیا گیا ہے جبکہ 20 روز کی مسلسل کاوشوں کے باوجود ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ ان سے ملاقات کرنے سے گریز اختیار کرتے رہے، علاوہ ازیں پاک کالونی تھانے میں موجود سینکڑوں موٹر سائیکلوں کی غیر قانونی طور پر فروخت کے بعد بھی ایس ایس پی داکٹر رضوان کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آسکا، جبکہ ڈاکٹر رضوان کے دست راست ضلع دار نے اے سی ایل سی کے 4 اہلکاروں عارف شاہ، علی رضا، فرقان جاوید اور زبیر پر مشتمل ڈکیت گینگ بنا رکھا ہے جو کہ شہریوں کے گھروں سے اربوں روپے لوٹ چکے ہیں، حافظ احمد علی کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان ایک نہایت بدعنوان افسر اور ذہنی مریض ہے جس نے اپنی مذموم سرگرمیوں میں ساتھ دینے سے انکار کرنے پر درجنوں ایماندار و قابل افسران پر جھوٹے مقدمات درج کرو ادئیے ہیں جبکہ ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے اپنے فرنٹ مین قمبر عباس کو غیر قانونی طور پر چھ پولیس اہلکار بطور گارڈ دے رکھے ہیں، حافظ احمد علی و دیگر نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی، ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان اور ان کے کارندوں کی مذموم سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اعلی سطحی کمیٹی قائم کی جائے بصورت دیگر جمعرات سے متاثرہ شہریوں و جمعیت علماء اسلام پاکستان کے کارکنوں کے ہمراہ پولیس ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا-
![]()