کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند نے کہا ہے کہ رضوان خالد چوہدری کے کالج پر حنا ربانی کھر کے غنڈوں کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ عام آدمی کے حقوق پر ڈاکہ مارنے والے وڈیرے تعلیم اور عوام میں شعور بیدار ہونے سے خوفزدہ ہیں۔ سیاسی نظام میں سب سے بڑا ناسور وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام ہے۔ نظام کی تبدیلی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ملکی سیاست پر چند وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور خاندانوں کی حکمرانی و اجارہ داری ہے جو ایک عام آدمی کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ وڈیرے نہیں چاہتے کہ قوم کے اندر شعور پیدا ہو۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کا اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان میں قائم کیے جانے والے تعلیمی ادارے پر حنا ربانی کھر کے غنڈوں کا حملہ عوام کے شعور پر حملہ ہے۔ جاگیر داری، سرمایہ داری اور وڈیرہ شاہی کے خلاف جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیں گے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر رضوان خالد چوہدری اور انکی ٹیم کے ساتھ کھڑے ہیں، وڈیرے اپنی اوقات میں رہیں۔ عام پاکستانی انکی جاگیر نہیں ہیں۔ حنا ربانی کھر جیسی ذہنیت رکھنے والوں نے ملک کا حلیہ بگاڑا ہوا ہے۔ حکومت عوام کے حقوق کی رکھوالی کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کی خدمت سے روکنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ وڈیرے خود کچھ کرتے ہیں نا کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ حنا ربانی کھر مظفر گڑھ میں اندھیرے چاہتی ہیں، انکی خواہش کبھی پوری نہیں ہونے دیں گے۔ ملک کی خدمت کرنے والوں کے حوصلے ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کی آن لائن میٹنگ میں رضوان خالد چوہدری سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند نے مزید کہا کہ قوم کو پسماندگی سے نکالنے کے لئے تعلیم ضروری ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت بنائے گئے تعلیمی ادارے کی توڑ پھوڑ سے حنا ربانی کھر کی ذہنیت کھل کر سامنے آگئی ہے۔پاسبان وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ کلچر کے خاتمہ کے عزم کے ساتھ سیاست کے میدان میں آئی ہے۔ سرمایہ دارارانہ نظام نے عوام کو کرپشن، لوٹ مار، بھوک بیروزگاری اور مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ سیاست میں لوٹ مار اور قتل و غارت کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ عام لوگ سیاسی ڈاکوؤں کو پہچان گئے ہیں۔ ملک میں وڈیرہ شاہی اور جاگیر دارانہ سیاسی نظام نے ملک و قوم کو یر غمال بنا رکھا ہے۔ وڈیروں اور جاگیر داروں کی مفاد پرست اور اقتدار کی سیاست پاکستان کی سیاسی تاریخ کا کڑوا سچ ہے۔ پارلیمان میں سیاسی جماعتوں کی حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر یہ طبقہ ذاتی مفادات کی غرض سے پارٹیاں بدل کر کسی نا کسی طرح پارلیمنٹ کا حصہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے نے عوام کے بنیادی حقوق کی بات نہیں اور نا نچلے طبقے کو سیاسی عمل کا حصہ بننے دیا۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں بہتری درکار ہے تو سب سے پہلے سالہا سال سے لوٹنے والے اس جاگیردارانہ سیاسی نظام کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ وڈیروں اور جاگیر داروں کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہوگا جو وقت کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کرتے ہیں۔