کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ترک کمپنیاں پاکستان میں ٹیکسٹائل اور خوردنی اشیاء کی تجارت میں دلچسپی رکھتے ہیں، ترکی اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کے اثرات مشترکہ تجارت کے فروغ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار ترکی میں سرمایہ کاری کے مواقعے تلاش کریں۔ یہ بات کراچی میں تعینات ترکی کے قونصل جنرل تولگا اچک نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں اپنے خطاب کے دوران کہی جبکہ اس موقع پر کاٹی کے صدر سلیم الزماں، سینئر نائب صدر ذکی احمد شریف، نائب صدر نگہت اعوان، راشد صدیقی، گلزار فیروز، جوہر قندھاری، سید فرخ مظہر، طارق ملک اور دیگر بھی موجود تھے۔ ترک قونصل جنرل تولگا اچک نے دونوں ممالک کے تاجر و صنعت کار برادری کے مابین بزنس ٹو بزنس تعلقات میں اضافہ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث گزشتہ دو سال لاک ڈاؤن اور سفری بندش سے کاروبار زندگی متاثر رہا، لیکن آہستہ آہستہ کورونا کیسسز میں کمی آرہی ہے، ویکسی نیشن کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ امید ہے رواں سال کورونا سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔ ترک قونصل جنرل نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل، خوردنی اشیا اور دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے باہمی رابطے بڑھانے میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹی سے دیرینہ تعلقات ہیں، پانچویں مرتبہ کاٹی کا دورہ کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے، قونصل جنرل نے کاٹی کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کاٹی کے صنعتکار اور ایکسپورٹرز ایک بڑی قوت ہیں، ترکی ان سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے مختصر عرصے میں تیزی سے ترقی کی اور بطور برادرانہ ملک چاہتے ہیں کہ پاکستان کے سرمایہ کار جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کی 13ویں بڑی معیشت سے فائدہ اٹھائیں، پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے انڈسٹریل زون قائم کئے ہیں جہاں حکومت کی جانب سے بے شمار سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اس سے قبل کاٹی کے صدرسلیم الزماں نے ترک قونصل جنرل کا کاٹی آمد پر خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے مابین برادرانہ تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ سلیم الزماں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے فضا ساز گار ہے اور ترک سرمایہ کاروں کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاٹی کراچی کے بڑے صنعتی علاقوں میں سرفہرست ہے، ترک سرمایہ کار یہاں باآسانی انڈسٹری لگا سکتے ہیں جس میں کاٹی انہیں تمام سہولیات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ صدرکاٹی نے مزید کہا کہ ترکی میں ٹیکسٹائل اور خوردنی مشینری میں جدت آئی ہے اور پاکستانی انڈسٹری اس سے مستفید ہوسکتی ہے۔ پاکستان چین سے مشینری درآمد کرتا ہے لیکن ترکی سے مشینری درآمد کرنا آسان ہے، انہوں نے ٹیکنالوجی کے تبادلہ پر بھی زور دیا۔ کاٹی کی کمیٹی برائے سفارتی تعلقات عامہ کے چیئرمین راشد صدیقی نے دونوں ممالک کے مابین تجارت کے فروغ کیلئے بین الاقوامی نمائشوں کے انعقاد پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ کاٹی کے صنعتکاروں کا وفد ترکی اور ترک سرمایہ کاروں کے وفود پاکستان کا دورہ کریں تاکہ دوطرفہ مواقع تلاش کئے جاسکیں۔ اس موقع پر ترکی کے کمرشل اتاشی ایوب یلدیریم نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کے امکانات کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ کاٹی ممبران کو بریفنگ دیتے ہوئے کمرشل اتاشی نے زور دیا کہ ترکی نے گزشتہ 10 سال میں تیزی سے معاشی ترقی حاصل کی، آج ترکی کا جی ڈی پی خطہ میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور جلد ترکی بڑی معاشی طاقت بن جائے گا، انہوں نے کہا کہ ترکی کا محل وقوع انتہائی اہم ہے، یورپ، ایشیائی اور افریقی ممالک تک رسائی انتہائی آسان ہے۔ جبکہ 300 سے زائد انڈسٹریل زون میں حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ سمیت دیگر مراعات دی جارہی ہیں۔ تقریب سے صدر مملکت برائے جمہوریہ ترکی کی جانب سے تعینات دبئی اور علاقائی سرمایہ کاری کے نمائندہ رحیم البیریک نے دبئی سے آن لائن لنک کے ذریعے شرکت کی اور کاٹی کے عہدیداروں کو ترکی میں سرمایہ کاری کے ماحول، ترکی میں صنعتی زونوں پر مراعات اور متعلقہ مواقع کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ممبران کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ 300 سے زیادہ صنعتی علاقوں میں، حکومت ٹیکس چھوٹ سمیت دیگر مراعات دے رہی ہے۔