Home/اہم خبریں/سندھ میں بھائی کرپشن کر رہا ہے، بہن آڈٹ کمیٹی کی نگرانی کر رہی ہے، کرپشن کے سب سے بڑے گڑھ پر نیب نے ہاتھ نرم رکھا ہوا ہے۔ طارق چاندی والا
سندھ میں بھائی کرپشن کر رہا ہے، بہن آڈٹ کمیٹی کی نگرانی کر رہی ہے، کرپشن کے سب سے بڑے گڑھ پر نیب نے ہاتھ نرم رکھا ہوا ہے۔ طارق چاندی والا
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ سندھ کرپشن کا سب سے بڑا گڑھ ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر نیب نے پیپلز پارٹی پر نرم ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سندھ میں سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں اور ڈھٹائی کے ساتھ مرکز پر تنقید کر رہے ہیں جب کہ خود ان کے اپنے گھر میں کرپشن کی داستانیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلی اور کرپشن کے بے تاج بادشاہ مراد علی شاہ، مسٹر ٹین پرسنٹ کے لئے بریف کیس بناتے ہیں۔ کچرے، زکوۃ، پنشن اور معذوروں کے پیسے بھی کھا چکے ہیں۔ صرف سندھ پبلک سروس کمیشن کی تحقیقات کی جائیں تو کھربوں روپے کے کرپشن کا طلسم ہوش ربا ملے گا۔ سندھ میں کرپشن کے ثبوت ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جا بجا سیوریج کا گندا پانی، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی زبوں حالی، شہر بھر میں ناقص تعمیرات، منشیات، مہنگائی مافیا کی صورت میں صوبہ بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت اگر سندھ کے حکمرانوں کی کرپشن کو تحفظ فراہم کرنے کی قیمت پر کھڑی ہے تو یہ پاکستان کے ساتھ کھلم کھلا دشمنی ہے۔ سندھ میں بھائی کرپشن کر رہا ہے اور بہن آڈٹ کمیٹی کی نگرانی کر رہی ہے۔ سندھ میں صرف پچھلے پانچ سال کا آڈٹ کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں طارق چاندی والا نے سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کی بدعنوانی کے مختلف کیسز میں ملوث ہونے اور بلاول بھٹو کے سندھ میں سب اچھا ہے کا راگ الاپنے پر رد عمل کے اظہار میں مزید کہا کہ سندھ میں کرپشن کی جڑ پیپلز پارٹی اور مراد علی شاہ ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھیوں پر ظلم کر رہی ہے کیونکہ یہ بھٹو کی پیپلز پارٹی نہیں رہی ہے۔ زرداری نے کراچی کی زمین اور پانی دونوں ناجائز طور پر بزنس ٹائیکون کو بیچ دیا ہے۔ کوٹہ سسٹم کا عام سندھیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ظلم کا یہ نظام آئین اور دین دونوں کے خلاف ہے، اسے بند کیا جائے۔ وفاق کی کچے کے ڈاکوؤں پر توجہ ہے جب کہ ان پکے ڈاکوؤں کا علاج پہلے ضروری ہے۔ سندھ میں تسلسل کے ساتھ کرپشن ہو رہی ہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن میں ہر نوکری کی قیمت مقرر ہے اور اس کے لئے جعلی ڈومیسائل اور شناختی کارڈ بنائے جاتے ہیں۔ اس معاملے کو دبایا نہ جائے بلکہ اس کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ سندھ کے حکمرانوں کی کرپشن پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب کراچی کے وجود کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار کراچی پر ہے۔