Home / اہم خبریں / جب چین کورونا کی وبا پر قابو پاسکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں پا سکتا؟ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

جب چین کورونا کی وبا پر قابو پاسکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں پا سکتا؟ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ جب چین کورونا وائرس کی وبا پر قابو پاسکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں پا سکتا؟  ملک کے ہر فرد کو ذات پات، رنگ و نسل اور قومیت کے امتیاز سے بالا تر ہو کر ایک متحد قوم بننا ہوگا تاکہ ہر وبا، مصیبت اور مسائل سے لڑا جا سکے۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور تحریک پاکستان کے قائدین کے فرمودات پر عمل پیرا ہو کرتمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک جسم، ایک قوم کی مانند حالات کا مقابلہ کرنے میں ہی ملک و قوم کی بقا ہے۔ پڑوسی ملک بھارت سے سبق سیکھا جائے جہاں نسلی و مذہبی امتیاز نے ہزاروں انسانوں کی جان لے لی۔ حکومت، سیاسی و سماجی تنظیمیں اور علماء نسلی امتیاز کیخلاف شعور بیدار کریں۔ وڈیرہ شاہی، برادری ازم اور وی آئی پی کلچر کو لگام دی جائے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی انصاف کے لئے سرگر م عمل ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن کے موقعہ پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ اس دن کو منائے جانے کا مقصد انسانی حقوق کی پاسداری اور اجتماعی احساس ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔ تمام انسان وقار اور حقوق کے حساب سے آزاد اور مساوی پیدا ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والا امریکا خود بری طرح سے نسلی امتیاز کا شکار ہے۔ سفید فاموں کے دماغوں میں آج بھی نسلی امتیاز کا غرور سمایا ہوا ہے۔ بھارت میں اس امتیاز کی بدترین مثال شہریت بل اور ذات پات کا نظام ہے۔ صرف مذہب کی بنیاد پر میانمار میں مسلمانوں کو زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔ وہی قومیں کامیابی کے جھنڈے گاڑتی ہیں جو ہر قسم کے اختلافات اور امتیازات سے بالا تر ہو کر مل جُل کر مصیبتوں کا مقابلہ کرتی ہیں۔موجودہ مشکل حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی طور پر مشکلات کا سامنا ہے، ہر قسم کے امتیازات اور تعصبات کا خاتمہ وقت کی اولین ضرورت ہے۔ نسلی اور قومی امتیازات کے خلاف تعلیمات کو عام کیا جائے اور معاشرتی نظام کو عدل اور مساوات کے صولوں کے تحت استوار کیا جائے تبھی حقیقی معنوں میں مملکت خدادا د، قائد اعظم کا پاکستان بن سکتی ہے۔ نسلی امتیاز کے حوالے سے ملک میں مختلف ذاتوں اور اقوام کو گھٹیا سمجھنے کا تصور آج بھی وڈیرہ شاہی کی شکل میں موجود ہے۔ جاگیردار، وڈیرے اور ذمیندار ملازمین کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ سالوں سے جاری اسی امتیاز کی وجہ سے آج گوٹھ کے وڈیرے اور شہر کے لٹیرے راج کر رہے ہیں جبکہ عام آدمی مسائل کی چکی میں پس رہا ہے۔ پاکستان میں ہاریوں، مزدوروں اور ان جیسے دوسرے طبقات پر غیر انسانی سلوک کے واقعات اکثر نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں اصل مسئلہ غربت اور جہالت کا خاتمہ اور سماجی انصاف کی فراہمی ہے۔ بھارت میں ہونے والی خونی کاروائیوں سے پاکستان کی سیاسی و سماجی قیادت سبق حاصل کرے۔ حکومت، سیاسی جماعتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور علمائے کرام نسلی امتیاز کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں حصہ لیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے