کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق درست حقائق عوام کے علم میں لائے جائیں۔ کراچی میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات میں تیزی لائی جائے۔ 9 کیسز پر تعلیمی اداروں کو بند کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کراچی کی رونقیں بحال ہونے لگتی ہیں تو کوئی نہ کوئی مسئلہ سر پر آن کھڑا ہوتا ہے۔ کراچی کی رونقیں پی ایس ایل کی وجہ سے بحال ہورہی تھیں کہ کرونا وائرس کا ہوا کھڑا کر دیا گیا۔ صوبائی حکومت کے اقدامات، وفاقی حکومت کے کرونا وائرس کے خلاف کئے گئے اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ حکومت عوام کو کرونا وائرس کی آگاہی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر مہم چلائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں کراچی میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کرونا وائرس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اقبال ہاشمی نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل کراچی سمیت پورے صوبے میں ڈینگی بخار نے وبائی صورت اختیار کر لی تھی، جب یہ بیماری شدید ہوگئی اور ہلاکتوں کو سلسلہ شروع ہوا تب ہماری حکومت کو ہوش آیا۔ اس بار بھی کرونا وائرس کے معاملے پر یہی صورتحال ہے۔ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے اس بیماری کا ملکی سطح پر پھیلنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ ایران، چین سمیت متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کا معائنہ کیا جاتا اور وہیں ضروری علاج فراہم کیا جاتا تو آج یہ وائرس اس تیزی سے نہ پھیلتا۔کراچی کے تمام تعلیمی ادارے کئی روز سے بند ہیں، تعلیمی اداروں کو بند کرنا ہے تو آن لائن کلاسز کا انتظام کیا جائے تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ نویں اور دسویں جماعت سمیت تمام امتحانات معمول کے مطابق لئے جائیں۔ یو ایس اے میں کرونا کے وائرس سے 9 سے زیادہ اموات شہر میں ہوئی ہیں وہاں کام کرنے والوں کو گھر بیٹھے کام کی سہولت مہیا کی گئی ہے، کراچی کے عوام کو بھی اسی طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ادارے بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس سے روزانہ کی بنیادوں پر کام کرنے والوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس قسم کے اقدمات سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس بات کا تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ کراچی میں کرونا وائرس کس طرح پھیلا؟ مسافروں کی اسکریننگ کیوں نہیں کی گئی؟ ذمہ داروں کو اپنے فرائض سے غفلت برتنے پر نہ صرف معطل کیا جائے بلکہ سخت سزا بھی دی جائے۔ وزیر اعلی سندھ کے بہنوئی بھی اسی وائرس کے شکار ہوئے ہیں، ایران سے واپسی پر ان کی اسکریننگ نہیں کی گئی؟ اقبال ہاشمی نے کرونا وائرس کے حفاظتی اقدامات پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور شہری انتظامیہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔ متاثرہ مریضوں کی نگہداشت کے لئے علیحدہ ڈیپارٹمنٹ بنائے جائیں۔ مناسب علاج معالجہ اور رو بہ صحت ہونے تک تمام میڈیکل سہولیات مفت فراہم کی جائیں۔ حکومت کراچی میں صفائی کا فوری مناسب بندوبست کرے۔ اس قسم کی گندگی میں ہزاروں امراض جنم لے رہے ہیں جو کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
![]()