کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سر پرست اعلیٰ ایس ایم منیر اور صدر شیخ عمر ریحان کی زیر سربراہی کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے وفد نے صنعتکاروں کے مسائل اور مطالبات سے آگاہ کرنے کے لیے وزیر اعظم کے مشیر برائے امور تجارت، صنعت و پیداوار عبدالرزاق داؤد سے ملاقات کی۔ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ہونے والی ملاقات میں وفد کے شرکاء نے صنعتی شعبے کی بقاء، معیشت کی بہتری اور برآمدات میں اضافے کے لیے مطالبات اور سفارشات سے بھی آگاہ کیا۔ صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ ملک میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے شرح سود جو کہ تقریباً 16 فیصد ہے کو فوری طور پر یک ہندسی کیا جائے اور بیمار صنعتوں کی بحالی کے لئے خصوصی رعائت فراہم کرتے ہوئے یہ شرح پانچ فیصد سے کم کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں کو ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے بلا تعطل گیس اور بجلی کی فراہمی اور منظور شدہ پانچ کمبائنڈ ایفلوئلنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی فوری تنصیب یقینی بنائی جائے۔ کاٹی کے وفد نے کراچی کی صنعتی اور تجارتی برادری کے مسائل سے آگاہی اور ان کے حل کے لیے وزیر اعظم کی جانب سے کراچی میں ایک فوکل پرسن تعینات کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چند برآمد سیکٹر کو بجلی کے 7.5 سینٹ فی کلو واٹ نرخ برآمدات سے وابستہ تمام صنعتی شعبوں کو بھی دیئے جائیں۔ وفد کا کہنا تھا کہ مقامی ایڈیبل آئل سیڈ ڈیویلپمنٹ کونسل کا قیام فوری طور پر عمل میں لایا جائے،ایکسپورٹ میں اضافے کے لئے مشینری اور خام مال کی درآمد پر ٹیکس ختم کیا جائے۔ کاٹی کے وفد کے شرکا ء نے تجویز پیش کی کہ فارما سیوٹیکل کی مشینری اورپلانٹ وغیرہ پر عائد 20 فیصد سیلز ٹیکس اور ادویہ کے پیکنگ میٹیرئیل پر وصول کی جانے والی 16 فیصد سیلز ٹیکس واپس لی جائے کیونکہ یہ ڈیوٹی پیدواری لاگت میں شامل ہوتی ہے۔ وفد کا کہنا تھا کہ فوری طور پر ایکسپورٹر کے تمام ریفنڈز بشمول تمام ٹیکسز کی ادائیگی کی جائے۔ کاٹی کے صنعت کاروں نے کہا کہ تمام برآمداتی صنعتوں کو یکساں طور پر توانائی کے رعائتی نرخوں کی سہولت دی جائے۔ وفد نے تجویز پیش کی کہ ملک میں گندم کے ذخائر کے لیے ناکافی انتظامات کی وجہ سے پیدوار کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے، اس سلسلے میں باقاعدہ حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں اور ذخیرہ کرنے کے لئے سیلوز بنائے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے تمام نامکمل اور رکے ہوئے ترقیاتی منصوبے فوری طور پر مکمل کئے جائیں۔ وفاقی دارالحکومت میں ایکسپورٹ اور انڈسٹری کی سہولت کے لئے کامرس سیکریٹریٹ کی زیر نگرانی ون ونڈو آپریشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ فی الفور ایکسپورٹ اور انڈسٹری کی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے اس موقع پر کاٹی کے وفد کو مسائل کے حل اور مطالبات و سفارشات پر عمل کی یقین دہانی کروائی۔ وفد میں سینیٹر عبدالحسیب خان، زبیر چھایا، گلزار فیروز، زاہد سعید، دانش خان، مسعود نقی، راشداحمد صدیقی، فرخ مظہر، سید جوہر قندھاری، احتشام الدین، طارق ملک، باسط اکرم، سلمان اسلم اور میاں محمود حسن بھی شامل تھے۔
![]()