کوئٹہ (رپورٹ: قاضی حمیر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی قائم مقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ، مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری شوکت بلوچ، کوئٹہ زون کے آرگنائزر صمند بلوچ، زونل آرگنائزئنگ کمیٹی کے رکن عزیز بلوچ، سابقہ صدر عاطف بلوچ اور مختلف یونٹس کے دوستوں نے بی ایس او بولان میڈیکل کالج یونٹ و دیگر طلباء و طالبات کے جانب بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ بولان میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے منصوبے کو صوبائی حکومت ایک منظم منصوبے کے تحت ناکام کرنے کی کوشش کررہی ہے صوبائی حکومت قانونی مسئلے کو اسمبلی میں ترمیم کے زریعے حل کرنے کے بجائے تشدد و گرفتاریوں کے زریعے بلوچستان کے اقدار و روایات کا پامال کررہی ہے 18 ویں ترمیم کے بعد جامعات صوبائی حکومت کے زیر نگرانی آنے چاہیے تھے لیکن فرد واحد کے زریعے فیصلوں سے تعلیمی ادارے تباہ ہو رہے ہیں جسکے خلاف بولان میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات کے جانب سے احتجاجی عمل حوصلہ افزاء و جرت مندانہ ہے اس جدوجہد سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بلوچستان کے طلباء و طالبات کسی صورت اپنے حقوق کے جدوجہد سے کمزور نہیں ہونگے طلباء سیاست پر قدغن مکمل طور پر غیر قانونی ہے بولان میڈیکل کالج میں اسکالر شپس و فیسوں کے مسائل پیدا کرنا بھی طلباء و طالبات کو کمزور کرنے کے لئے کئے جاریے اگر صوبائی حکومت نے جلد از جلد مسائل حل نہیں کیا تو بی این پی و بی ایس او بلوچستان بھر میں شدید احتجاج کرینگے۔
![]()