کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ون وے ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر پولیس و ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے خلاف کرمنل مقدمات اور درج شدہ ایف آئی آرز کے خاتمے کے لئے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردہ آئینی درخواست نمبر 657/2020 کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس ارشاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے موقع پر چیئرمین پاسبان الطاف شکور، وائس چیئرمین اعظم منہاس اور پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ موجود تھے جبکہ حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک کی طرف سے ڈی ایس پی ٹریفک پریڈی انور گوپانگ پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک کے نمائندے نے معزز عدالت سے رپورٹ اور جواب داخل کرنے کے لئے مزید مہلت طلب کی جس پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈی آئی جی ٹریفک کو بھی ایف آئی آرز اور مقدمات کی فائلوں کے ساتھ عدالت میں طلب کیا جائے۔ پاسبان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ون وے ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر 150روپے سے 500 روپے تک کے چالان کئے جانے کے بجائے 1000 روپے تک کے چالان کئے گئے۔ علاوہ ازیں ون وے ٹریفک کی خلاف ورزی پر گرفتار کئے گئے شہریوں کے خلاف نہ صرف ایف آئی آرز اور کرمنل مقدمات کا اندراج کرکے ان کا مستقبل تباہ کیا گیا بلکہ شہریوں کی گاڑیاں تک ضبط کرلی گئیں۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی نے معزز عدالت سے استدعا کی کہ ون وے ٹریفک کی خلاف ورزیوں میں کراچی کے شہریوں پر درج کئے گئے تمام مقدمات اور ایف آئی آرز ختم کرنے، ضبط کی گئی گاڑیوں کی واپسی اور جرمانے کی مد میں وصول کیئے گئے کروڑوں روپے کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ مزید بر آں گرفتار شہریوں کو باعزت بری کرکے انہیں این او سیز جاری کرنے کے احکامات صادر کیے جائیں۔ اس موقعہ پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے میڈیا چوک پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاسبان ملکی قوانین کا احترام کرتی ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کسی بھی طور جائز نہیں ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے اور چالان ضرور کئے جائیں لیکن مقدمات درج کرکے اور ایف آئی آرز کاٹ کر نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت کسی کو بھی نہ دی جائے۔ حکومت سندھ پہلے کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنائے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت و درستگی کرکے انہیں سفر کے قابل بنائے۔ پاسبان شہریوں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ ہر طرح کے قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔ الطاف شکور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دفعہ 279 کے تحت قائم کئے گئے تمام مقدمات اور ایف آئی آرز ختم کروانے کے لئے آخری دم تک کوشش کریں گے۔ معزز عدالت نے 16 مارچ کو ہونے والی اگلی سماعت میں ایڈوکیٹ جنرل اور ڈی آئی جی ٹریفک کے نمائندے کو تمام دستاویزات کے ہمراہ آنے کی ہدایت کی ہے۔
![]()